واشنگٹن میں موجود باخبر ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایرانی ساحلی پٹی پر امریکی بحری ناکہ بندی کے دوران ٹرمپ انتظامیہ ایک بار پھر سفارتی کوششوں کو تیز کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں اعلیٰ سطحی امریکی حکام کے چند روز کے اندر پاکستان کا دورہ کرنے کا امکان ہے۔ اگرچہ ابھی تک کوئی حتمی تاریخ طے نہیں ہوئی تاہم مذاکرات پیر کے روز دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔
اس ممکنہ سفارتی رابطے کا مرکز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ہوں گے جن کے اسلام آباد واپسی کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے جہاں پہلے بھی خفیہ مذاکرات ہوتے رہے ہیں۔ ان کے ہمراہ مشرق وسطیٰ کے لیے صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے بھی شامل ہونے کا امکان ہے جو خطے میں معاہدوں کے لیے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز مختلف صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگلی براہ راست بات چیت کی قیادت کون کرے گا اس کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا، تاہم اس ٹیم میں وینس، وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہو سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی روکنے پر اتفاق کر لیا ہے اور انہیں ایک یا دو دن میں ایران کے ساتھ معاہدے کی توقع ہے۔
گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں وینس کی قیادت میں ایرانی نمائندوں کے ساتھ طویل مذاکرات ہوئے تھے جو کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے تھے۔ ان مذاکرات میں ایران کی جوہری سرگرمیوں اور فروری سے جاری جنگ کے خاتمے کی شرائط جیسے معاملات تاحال حل طلب ہیں۔ تاہم فریقین کی جانب سے سفارت کاری جاری رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
دوسری جانب پیرس میں مغربی ممالک کے رہنماؤں کا ہنگامی اجلاس ہو رہا ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی میزبانی میں ہونے والے اس اجلاس میں برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر، جرمن چانسلر فریڈرک مرز اور اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی شریک ہیں۔ اس اجلاس میں یورپ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے ۳۰ سے زائد نمائندے آن لائن شرکت کریں گے تاکہ عالمی توانائی کی سپلائی کے اس اہم راستے کو محفوظ بنایا جا سکے۔
آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس راستے میں ایرانی ساختہ بارودی سرنگیں موجود ہو سکتی ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ لبنان میں جنگ بندی کے تناظر میں آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھول دی گئی ہے۔ تاہم امریکی بحریہ نے جہاز رانوں کو خبردار کیا ہے کہ بارودی سرنگوں کا خطرہ ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوا ہے اور متعلقہ علاقے سے گریز کیا جائے۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ ایران، امریکہ کی مدد سے آبنائے سے تمام بارودی سرنگیں ہٹا دے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹیلی فونک انٹرویو کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ…
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے لیے تعریفی…
خلیجی ممالک اور اردن نے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (آئی…
پاکستان نے آئی ٹی ایف ایشیا انڈر 12 ٹیم چیمپئن شپ کے فائنل کے لیے…
نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کو اس وقت ایک غیر معمولی…
سینیٹر سرمد علی نے فیڈرل اردو یونیورسٹی کے بڑھتے ہوئے مالی بحران کو حل کرنے…