ملائیشیا کی ریاست صباح کے ساحلی گاؤں میں آتشزدگی کے ایک بڑے واقعے کے نتیجے میں دو سو سے زائد گھر خاکستر ہو گئے، جس کے بعد سیکڑوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ سرکاری خبر رساں ادارے برنامہ کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اتوار کی شب پیش آیا۔
ضلع سانڈاکن کے فائر اینڈ ریسکیو چیف جمی لاگونگ نے بتایا کہ آگ لگنے کی اطلاع رات ایک بج کر بتیس منٹ پر موصول ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تیز ہواؤں اور گھروں کے ایک دوسرے سے انتہائی قریب ہونے کی وجہ سے آگ نے تیزی سے پھیل کر تباہی مچائی، جبکہ سمندر میں پانی کی سطح کم ہونے کے باعث آگ بجھانے کے عمل میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ آگ صباح کے ان ساحلی دیہات میں لگی جہاں لکڑی کے مکانات کھمبوں پر تعمیر کیے گئے ہیں۔ ان علاقوں میں زیادہ تر غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد اور مقامی گروہ آباد ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق سانڈاکن میں قائم کیے گئے عارضی ریلیف کیمپ میں اب تک چار سو پینتالیس افراد کے اندراج کی تصدیق کی گئی ہے جو اس واقعے میں بے گھر ہوئے ہیں۔
ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت متاثرین کی ہنگامی امداد اور ان کی عارضی رہائش کے انتظام کے لیے ریاستی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس وقت اولین ترجیح متاثرین کی حفاظت اور فوری امدادی کارروائیاں یقینی بنانا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…