ملائیشیا کی ریاست صباح کے ساحلی علاقے سانڈاکان میں خوفناک آتشزدگی کے باعث ایک ہزار کے قریب گھر جل کر راکھ ہو گئے، جس کے نتیجے میں نو ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو گئے۔
مقامی فائر بریگیڈ کے سربراہ جمی لاگونگ کے مطابق آگ لگنے کی اطلاع اتوار کی رات ایک بج کر 32 منٹ پر موصول ہوئی۔ تیز ہواؤں اور گھروں کے ایک دوسرے سے جڑے ہونے کے باعث آگ نے تیزی سے شدت اختیار کی، جبکہ کم پانی کی سطح کے باعث امدادی ٹیموں کو پانی کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
متاثرہ علاقہ پانی پر بنے لکڑی کے مکانات پر مشتمل ہے، جہاں زیادہ تر غریب اور مقامی کمیونٹیز آباد ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس بڑے حادثے میں تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
وزیراعظم انور ابراہیم نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر متاثرین کی فوری بحالی اور عارضی رہائش کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے فیس بک پر جاری بیان میں کہا کہ اس وقت ہماری اولین ترجیح متاثرین کی حفاظت اور انہیں فوری امداد کی فراہمی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…