کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات جو کبھی کینیڈا کے لیے ایک طاقت سمجھے جاتے تھے، اب ایک کمزوری بن چکے ہیں۔ انہوں نے دو صدیاں قبل امریکی جارحیت کے خلاف لڑنے والے فوجی رہنماؤں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا اپنے پڑوسی ملک کی جانب سے پیدا کردہ خلل کو کنٹرول نہیں کر سکتا اور نہ ہی مستقبل کے لیے اس امید پر انحصار کیا جا سکتا ہے کہ یہ صورتحال اچانک ختم ہو جائے گی۔
وزیراعظم کارنی نے 1812 کی جنگ کے دوران امریکی حملے سے کینیڈا کا دفاع کرتے ہوئے جان دینے والے برطانوی فوجی لیڈر جنرل آئزک بروک کے ایک چھوٹے سے کھلونا مجسمے کو ہاتھ میں تھامے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات منفرد محسوس ہوتے ہیں لیکن کینیڈا ماضی میں بھی ایسی دھمکیوں کا سامنا کر چکا ہے۔ انہوں نے چیف ٹیکمسی جیسے تاریخی کرداروں کا ذکر کیا جنہوں نے عظیم جھیلوں کے اطراف مقامی قبائل کو امریکی توسیع پسندی کے خلاف متحد کیا تھا۔
گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے والے وزیراعظم کارنی کا کہنا ہے کہ ان کی انتخابی کامیابی انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شروع کی گئی تجارتی جنگ کا زیادہ مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے میں مدد دے گی۔ اس سے قبل امریکی سیکریٹری تجارت ہاورڈ لٹونک نے کینیڈا کو ایک مشکل تجارتی شراکت دار قرار دیا تھا۔
کینیڈا اپنی کل برآمدات کا تقریباً 70 فیصد امریکہ بھیجتا ہے اور فی الحال سہ فریقی تجارتی معاہدے کا جائزہ لے رہا ہے جبکہ امریکی حکام نے اس معاہدے میں بڑی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسٹیل، ایلومینیم اور آٹوموبائل جیسی کینیڈین برآمدات پر محصولات عائد کرنے کے ساتھ ساتھ کینیڈا کو امریکی ریاست بنانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
وزیراعظم کارنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں باقاعدگی سے قوم سے خطاب کریں گے تاکہ معیشت کی ترقی اور ملکی خودمختاری کے دفاع کے لیے حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا جا سکے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ یہ ہمارا ملک اور ہمارا مستقبل ہے اور ہم اپنے معاملات کا کنٹرول واپس لے رہے ہیں۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے سعودی…
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ امریکہ کے…
وزیر اعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان خطے میں…
وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے…
تہران اور واشنگٹن کے مابین جاری کشیدگی کے درمیان امریکی وفد نئے مذاکرات کے لیے…
بارہ ارب روپے سے زائد کی لاگت سے تعمیر کی گئی حب کینال کی ناکامی…