مغربی کنارے میں اسرائیلی وزراء کی جانب سے غیر قانونی بستی کی بحالی پر جشن

اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے کے ایک فلسطینی گاؤں الفندکومیہ میں حکام کی جانب سے پندرہ دکانوں کو مسمار کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزراء نے پڑوسی پہاڑی پر ایک یہودی بستی کی بحالی کا جشن منایا ہے۔

مقامی ویلج کونسل کے سربراہ رفعت قروریہ کے مطابق، دکانوں کے مالکان کو ان عمارتوں کو خالی کرنے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ سانور بستی کی بحالی سے مقامی رہائشیوں کی زندگی مشکل ہو جائے گی اور ان کی اپنی زرعی زمینوں تک رسائی بھی محدود ہو جائے گی۔

اس سے قبل اتوار کے روز اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز، وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ اور وزیر خارجہ گیڈون سار نے شمالی مغربی کنارے میں واقع سانور بستی کی بحالی کی تقریب میں شرکت کی۔ سانور ان انیس بستیوں میں شامل تھی جنہیں دو ہزار پانچ کے انخلاء کے منصوبے کے تحت خالی کرایا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق موجودہ اسرائیلی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے فلسطینیوں کو ہزاروں مسماری کے نوٹس مل چکے ہیں۔ پیس ناؤ نامی اسرائیلی حقوق گروپ کے مطابق موجودہ حکومت کے تحت ایک سو دو نئی بستیاں منظور کی گئی ہیں، جو کہ پچھلے اعداد و شمار کے مقابلے میں اسی فیصد اضافہ ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے عہدیدار عامر داؤد نے اپنے بیان میں کہا کہ سانور میں ہونے والی پیش رفت مزید کشیدگی اور فلسطینیوں کی زمینوں تک رسائی پر پابندیوں کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے اسے زمینی حقائق کی تبدیلی اور الحاق کی کوشش قرار دیا۔

وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کھلے عام مغربی کنارے کے الحاق کی حمایت کر چکے ہیں اور اتوار کی تقریب میں انہوں نے غزہ سمیت لبنان اور شام کے مقبوضہ علاقوں میں بھی یہودی آباد کاری پر زور دیا۔

عالمی برادری کی اکثریت مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی قرار دیتی ہے، تاہم اسرائیل اس موقف کو مسترد کرتا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد اور بے دخلی کو نسلی صفائی کے مترادف قرار دیا ہے، جبکہ اسرائیل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق سال دو ہزار چھبیس کے آغاز سے اب تک آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں پر پانچ سو اسی حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن کے نتیجے میں کم از کم اٹھارہ سو افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ حقوق گروپ یش دین کے مطابق اسرائیلی آبادکاروں کے خلاف تشدد کے مقدمات کا اندراج انتہائی شاذ و نادر ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

لبنان کے اسرائیل سے مذاکرات کا ایران سے کوئی تعلق نہیں، صدر لبنان

بیروت سے موصولہ اطلاعات کے مطابق لبنانی صدر جوزف عون نے واضح کیا ہے کہ…

30 منٹس ago

وزیراعظم شہباز شریف اور یورپی کونسل کے صدر کا مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال

وزیراعظم شہباز شریف اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کے درمیان ٹیلی فون پر…

35 منٹس ago

بھارت میں اینٹی ٹرسٹ کیس: ایپل کی جانب سے ڈیٹا فراہم کرنے سے گریز، حتمی سماعت کا فیصلہ

بھارتی مسابقتی کمیشن نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کو خبردار کیا ہے کہ اگر کمپنی…

41 منٹس ago

میکسیکو: منشیات مخالف چھاپے کے بعد کار حادثے میں دو امریکی سفارتی اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک

شمالی میکسیکو میں انسداد منشیات کے ایک بڑے آپریشن سے واپسی پر پیش آنے والے…

1 گھنٹہ ago

بلغاریہ کے صدارتی انتخابات: روس نواز سابق فائٹر پائلٹ رومن رادیف کی بھاری اکثریت سے کامیابی

بلغاریہ میں سابق فائٹر پائلٹ رومن رادیف نے اتوار کے روز ہونے والے پارلیمانی انتخابات…

1 گھنٹہ ago

ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات: پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز

اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کے…

2 گھنٹے ago