امریکی میڈیا کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور بدھ کے روز اسلام آباد میں متوقع ہے۔ امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے تین امریکی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس منگل کے روز پاکستان روانہ ہوں گے جبکہ ایرانی وفد کی آمد بھی اسی روز متوقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد تنازع کے خاتمے کے لیے کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کسی معاہدے کے طے پانے تک برقرار رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی دباؤ کا شکار نہیں ہیں اور صرف اسی صورت میں معاہدے پر آمادہ ہوں گے جب شرائط بہترین ہوں گی۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی بھی نیا معاہدہ اوباما دور کے جوہری معاہدے سے بہتر ہوگا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مجوزہ معاہدہ عالمی امن، سلامتی اور استحکام کا ضامن ہوگا۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور امید ظاہر کی کہ تہران کی دانشمندانہ قیادت ملک کو خوشحال مستقبل کی جانب لے جا سکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ امریکہ کو ایران کے ساتھ کسی اور تباہ کن معاہدے میں نہیں الجھائیں گے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق موجودہ قیادت کے تحت طے پانے والا کوئی بھی معاہدہ مشرق وسطیٰ سمیت یورپ اور دیگر خطوں میں امن و سلامتی کی ضمانت ہوگا۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے الزام لگایا کہ امریکہ مذاکرات کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران دھمکیوں کے سائے میں ہونے والی بات چیت کو مسترد کرتا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان مذاکرات میں شرکت کے امکانات کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال مذاکرات کے دوسرے دور میں حصہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے کیونکہ ایران کو امریکہ پر اعتماد نہیں ہے اور اس کا وفد پاکستان نہیں جائے گا۔ ترجمان نے پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا تاہم ایران کے موقف میں کسی تبدیلی سے انکار کیا۔
دریں اثنا پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں جانب سے امن کے لیے کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ اشتعال انگیز کارروائیاں اور جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیاں سفارتی پیش رفت میں رکاوٹ ہیں۔ ایران نے ایرانی تجارتی جہازوں کو دھمکیاں دینے اور متضاد بیانات سمیت جارحانہ بیان بازی پر بھی کڑی تنقید کی ہے۔
یورپی یونین نے ایران میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث جیٹ…
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نو مئی کے واقعات میں سزا یافتہ مراد سعید کی…
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں اسرائیل، روس اور امریکہ کے رہنماؤں کو انسانی…
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس آج منگل کے روز پاکستان کے دورے پر روانہ…
پاکستان بھر سے حج پروازوں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے اور سرکاری انتظامات کے…
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز ایک بار پھر تیزی کا رجحان لوٹ آیا…