امریکہ نے منگل کے روز ایران کے لیے ہتھیاروں کے حصول میں مدد فراہم کرنے والے 14 افراد اور کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ اقدام تہران کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد اپنے بیلسٹک میزائلوں کے ذخائر کو دوبارہ بحال کرنے کی کوششوں کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
محکمہ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد اور اداروں کا تعلق ایران، ترکی اور متحدہ عرب امارات سے ہے۔ ان پر ایران کی جانب سے ہتھیاروں یا ان کے پرزہ جات کی خریداری اور نقل و حمل میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ان پابندیوں میں متعدد طیارے بھی شامل ہیں۔
یہ نئی پابندیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ دونوں ممالک کے مابین اس بات پر ڈیڈ لاک موجود ہے کہ آیا آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور ایران کے خلاف جاری امریکی و اسرائیلی جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کے مقصد سے مذاکرات کا دوسرا دور شروع کیا جائے یا نہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…