امریکہ نے منگل کے روز ایران کے لیے ہتھیاروں کے حصول میں مدد فراہم کرنے والے 14 افراد اور کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ اقدام تہران کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد اپنے بیلسٹک میزائلوں کے ذخائر کو دوبارہ بحال کرنے کی کوششوں کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
محکمہ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد اور اداروں کا تعلق ایران، ترکی اور متحدہ عرب امارات سے ہے۔ ان پر ایران کی جانب سے ہتھیاروں یا ان کے پرزہ جات کی خریداری اور نقل و حمل میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ان پابندیوں میں متعدد طیارے بھی شامل ہیں۔
یہ نئی پابندیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ دونوں ممالک کے مابین اس بات پر ڈیڈ لاک موجود ہے کہ آیا آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور ایران کے خلاف جاری امریکی و اسرائیلی جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کے مقصد سے مذاکرات کا دوسرا دور شروع کیا جائے یا نہیں۔
فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا کے خلاف ایک نیا مقدمہ دائر کیا…
واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کر…
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا ہے کہ امریکہ متحدہ عرب امارات کی…
واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں…
انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپن ریسرچ کے تازہ ترین سروے میں پنجاب حکومت کی کارکردگی…