واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کردہ بیانات اور صحافیوں کے ساتھ ٹیلی فونک رابطوں نے ایران کے حوالے سے ان کی حکمت عملی کو شدید ابہام کا شکار کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے غیر رسمی انداز میں صحافیوں سے گفتگو اور ان کے متضاد بیانات کے باعث وائٹ ہاؤس کو گزشتہ چند روز کے دوران متعدد بار اپنے موقف کی وضاحت کرنی پڑی ہے۔
اتوار کے روز صدر ٹرمپ نے اے بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے امریکی وفد کی قیادت نہیں کریں گے، تاہم سرکاری ذرائع نے فوری طور پر اس بیان کی تردید کر دی۔ اسی طرح پیر کے روز نیویارک پوسٹ سے گفتگو میں صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکی مذاکرات کار اسلام آباد روانہ ہو چکے ہیں، جبکہ حقیقت میں نائب صدر منگل کی دوپہر تک وائٹ ہاؤس میں ہی اہم اجلاسوں میں مصروف تھے۔
ماہرین کے مطابق صدر کا اس طرح غیر محفوظ ذرائع سے صحافیوں سے براہ راست رابطے میں رہنا سفارتی اور حفاظتی اصولوں کے منافی ہے۔ یونیورسٹی آف کنساس کے پروفیسر رابرٹ رولینڈ کا کہنا ہے کہ سابق صدور کے برعکس ٹرمپ ہر معاملے کو سیاسی رنگ دے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس کے قریبی حلقے ایران میں جاری فوجی آپریشنز کے دوران صدر کی بے صبری کے خدشے کے پیش نظر انہیں کئی معاملات سے جزوی طور پر لاعلم بھی رکھتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے رواں ہفتے اپنے سیاسی مخالفین کو غدار قرار دیتے ہوئے میڈیا پر بھی کڑی تنقید کی۔ ان کا طرز عمل صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ وہ دیگر حساس معاملات پر بھی متنازع بیانات دے رہے ہیں۔ مارچ میں فوجیوں کی میتوں کی واپسی کے دوران ان کا مخصوص ٹوپی پہننا اور حال ہی میں اپنی ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر شیئر کرنا، جس میں انہیں یسوع مسیح کے ہمراہ دکھایا گیا تھا، شدید تنقید کا باعث بنا۔
ویٹنام جنگ کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ اگر وہ اقتدار میں ہوتے تو اس جنگ کو بہت جلد جیت لیتے، سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران جیسے حساس موضوع پر گفتگو کے دوران بھی صدر ٹرمپ بارہا تعمیراتی منصوبوں پر بات کرنے لگتے ہیں۔ سی این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں بھی وہ ایران کی صورتحال کے بجائے فیڈرل ریزرو کے ہیڈ کوارٹر کی تزئین و آرائش اور وائٹ ہاؤس میں نئے بال روم کی تعمیر پر زیادہ زور دیتے دکھائی دیے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق رواں سال کے آغاز سے صدر ٹرمپ ہر تین دن میں اوسطاً ایک بار اپنے اس پسندیدہ بال روم کا ذکر کر چکے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بلغاریہ میں حال ہی میں منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں…
کانگریس کے سینئر رہنما ملکارجن کھڑگے نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو دہشت گرد قرار…
یروشلم کے لاطینی پیٹریاک کارڈینل پیئر بتیستا پیزابالا نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کی…
واشنگٹن نے ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے…
ہائی کورٹ کے ججوں کے تبادلے کے حوالے سے آئینی ترمیم پر عمل درآمد کا…
بحر الکاہل کے دور دراز ممالک عالمی ایندھن کے شدید بحران کی لپیٹ میں ہیں،…