لندن میں دنیا بھر کے تیس سے زائد ممالک کے عسکری منصوبہ سازوں کا دو روزہ اجلاس بدھ سے شروع ہو رہا ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو بحال کرنے کے لیے ٹھوس لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ برطانوی حکومت کے مطابق اس مشن کی قیادت برطانیہ اور فرانس کر رہے ہیں۔
گزشتہ ہفتے ایک درجن سے زائد ممالک نے اس بین الاقوامی مشن میں شمولیت پر آمادگی ظاہر کی تھی جس کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ یہ پیش رفت یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے تقریباً پچاس ممالک کے درمیان ہونے والی ایک ویڈیو کانفرنس کے بعد سامنے آئی ہے۔
برطانوی وزارت دفاع کے مطابق یہ اجلاس گزشتہ ہفتے ہونے والی بات چیت کے تسلسل میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے اپنے بیان میں کہا کہ ان دو دنوں میں سفارتی اتفاق رائے کو ایک مشترکہ عملی منصوبے میں ڈھالنا ہے تاکہ سمندری گزرگاہوں پر نقل و حمل کی آزادی کو یقینی بنایا جا سکے اور دیرپا جنگ بندی کی حمایت کی جا سکے۔
جان ہیلی نے اس امید کا اظہار کیا کہ دو روزہ مذاکرات کے دوران معاملات میں حقیقی پیش رفت متوقع ہے۔ اجلاس کے شرکاء عسکری صلاحیتوں، کمانڈ اینڈ کنٹرول کے معاملات اور خطے میں فورسز کی تعیناتی کے طریقہ کار پر تفصیلی غور کریں گے۔ برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا حتمی عمل ایک پائیدار جنگ بندی کے قیام کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…