ایران نے بحیرہ عمان میں اپنے تجارتی جہاز پر امریکی حملے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے سخت نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ یہ کارروائی سمندری قزاقی اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب سعید ایروانی نے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر جمال فارس الرویعی کو 21 اپریل کو ارسال کردہ خط میں کہا ہے کہ امریکی فورسز کی جانب سے ٹوسکا نامی بحری جہاز کو نشانہ بنانا اشتعال انگیزی اور دھونس کا مظاہرہ ہے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی اقدام عملے اور ان کے اہل خانہ کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایران نے اس واقعے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 3314 کے تحت جارحیت قرار دیا ہے جو کسی بھی ریاست کے جہازوں پر حملے کو فوجی جارحیت کے زمرے میں لاتی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ واقعہ حال ہی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے۔ تہران نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کی کارروائیاں سمندری راستوں کی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں اور خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔
ایران نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کی مذمت کرے اور ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کا احتساب کرے۔ تہران نے امریکہ سے بحری جہاز، عملے کے ارکان اور ان کے اہل خانہ کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
تہران نے باضابطہ طور پر درخواست کی ہے کہ اس مراسلے کو سلامتی کونسل کی سرکاری دستاویز کے طور پر ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…