ایران پر امریکی پابندیوں کے اہداف میں تبدیلی، کامیابی کا تعین مشکل

لندن (اے ایف پی) امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے تک اس کے بحری جہازوں کا گھیراؤ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے تاہم تجزیہ کاروں اور شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق اس آپریشن کی کامیابی کا اندازہ لگانا انتہائی پیچیدہ صورتحال اختیار کر گیا ہے۔

لائیڈز لسٹ انٹیلی جنس کی تجزیہ کار بریجٹ ڈیاکون کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے متضاد معلومات اور ڈیٹا کے اجراء میں تاخیر کے باعث ناکہ بندی کے دائرہ کار اور پیرامیٹرز پر ابہام پایا جاتا ہے۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی کا آغاز 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ہوا، جس کے جواب میں ایرانی فورسز نے اپنی جنوب مشرقی ساحلی پٹی اور عمان کے شمالی حصے کے درمیان گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنا کر آبنائے کو بند کر دیا تھا۔ بعد ازاں جنگ بندی کے دوران مذاکرات کی ناکامی پر 13 اپریل کو امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین ڈین کین نے خلیج عمان کے دہانے پر جوابی ناکہ بندی کا اعلان کیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ پابندیاں ایران کی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے تمام ممالک کے جہازوں پر لاگو ہیں، جبکہ امریکی بحریہ نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران سے منسلک تیل، اسلحہ اور جوہری مواد لے جانے والے مشکوک جہازوں کو بھی روکے گی۔ امریکی دفاعی حکام کا اب مؤقف ہے کہ آپریشن کی کامیابی کا معیار یہ نہیں کہ کتنے جہاز ناکہ بندی عبور کر گئے، بلکہ یہ ہے کہ ایران کی تجارت کو کتنا نقصان پہنچا۔

میری ٹائم فرمز کے سیٹلائٹ امیجز اور ٹریکنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ درجنوں ایسے جہاز ناکہ بندی کی لائن عبور کر چکے ہیں جو امریکی پابندیوں کی زد میں ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 17 اپریل تک دعویٰ کیا تھا کہ کوئی جہاز ناکہ بندی سے فرار نہیں ہوا، تاہم بعد ازاں اعداد و شمار میں تبدیلی دیکھی گئی۔

بحری جہازوں کی جانب سے ٹریکنگ ٹرانسپونڈرز بند کر کے یا اپنی منزل عراق ظاہر کر کے ناکہ بندی سے بچنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ کچھ جہازوں نے خلیج کے اندر داخل ہو کر ایران کا تیل منتقل کیا، جبکہ کچھ جہازوں نے آبنائے سے نکلتے وقت اپنے سگنلز بند کر دیے۔

اگرچہ امریکی حکام نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بعض جہازوں کو استثنیٰ دینے کا اشارہ دیا تھا، تاہم اس کی شرائط واضح نہیں کی گئیں۔ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق کم از کم دو جہاز ایرانی بندرگاہوں پر خوراک کی ترسیل کے بعد بلا روک ٹوک خلیج سے باہر نکلنے میں کامیاب رہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

وزیر داخلہ محسن نقوی اور امریکی سفیر کی ملاقات، پاک ایران اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور پاکستان میں تعینات امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کے…

4 منٹس ago

’دی ڈیول وئیرز پراڈا 2‘: فیشن اور بدلتے میڈیا منظرنامے کے ساتھ طویل انتظار کا خاتمہ

لندن میں دی ڈیول وئیرز پراڈا ٹو کے یورپی پریمیئر کے موقع پر فلم کے…

10 منٹس ago

امریکی وزیر بحریہ جان فیلن اپنے عہدے سے برطرف

امریکی بحریہ کے سیکریٹری جان سی فیلن کو ان کے عہدے سے فوری طور پر…

59 منٹس ago

پہلگام فالس فلیگ آپریشن: بھارت کا مکروہ چہرہ اور جعلی مقابلوں کی تاریخ بے نقاب

بھارتی تاریخ میں فالس فلیگ آپریشنز ایک تاریک باب کی حیثیت رکھتے ہیں جن کا…

1 گھنٹہ ago

ایران جنگ کے باعث یورپ میں شمسی توانائی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ

یورپ میں ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے چھتوں پر نصب سولر سسٹمز کی…

1 گھنٹہ ago

جنوبی کوریا: فضائیہ کی جانب سے 2021 میں طیاروں کے تصادم پر معافی، وجہ ‘سیلفی’ قرار

جنوبی کوریا کی فضائیہ نے 2021 میں پیش آنے والے دو لڑاکا طیاروں کے تصادم…

2 گھنٹے ago