اسلام آباد میں پاکستان، متحدہ عرب امارات، اردن، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آباد کاروں کی دراندازی کی شدید مذمت کی ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں مقبوضہ بیت المقدس میں تاریخی اور مقدس مقامات کی مسلسل بے حرمتی کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ اسرائیلی پولیس کی سرپرستی میں انتہا پسند وزراء اور آباد کاروں کا مسجد اقصیٰ میں داخل ہونا دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف کا پورا احاطہ مسلمانوں کی عبادت کے لیے مختص ہے جس پر کسی دوسرے کا کوئی حق نہیں ہے۔
اسرائیل کی جانب سے تیس سے زائد نئی غیر قانونی بستیوں کی منظوری کو بھی بین الاقوامی قوانین، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور عالمی عدالت انصاف کی رائے کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ وزراء نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں، ان کے اسکولوں اور بچوں پر ہونے والے پرتشدد حملوں کی بھی مذمت کی اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔
مشترکہ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کی کوئی خودمختاری نہیں ہے۔ وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ انضمام کی کوششیں اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی دو ریاستی حل کو سبوتاژ کرنے اور خطے میں امن کی بحالی کی کوششوں کو ناکام بنانے کے مترادف ہے۔
یہ اعلامیہ 23 اپریل 2026 کو جاری کیا گیا جس میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے عالمی برادری سے کردار ادا کرنے پر زور دیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات کو لبنانی اور اسرائیلی نمائندوں کے ساتھ امن مذاکرات کے…
کانز فلم فیسٹیول نے سن 2026 کے آفیشل سلیکشن میں مزید 16 فلموں کو شامل…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے…
لبنان اور اسرائیل کے سفیروں کے درمیان ہونے والے مذاکرات اب وائٹ ہاؤس میں منعقد…
میٹا نے اخراجات میں کمی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کے…
آسٹریلیا کے مشرقی ساحل پر صبح کی سیر کے دوران سمندر میں طغیانی آنے سے…