بنگلہ دیش میں خسرہ کے پھیلاؤ کے باعث صورتحال تشویشناک ہوگئی ہے، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ شروع ہونے والی اس وبا سے اب تک 194 بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ حکومتی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں خسرہ کے مشتبہ کیسز کی تعداد 28 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران بیماری کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ روزانہ اوسطاً تین سے پانچ بچے موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ صرف بدھ کے روز تین بچوں سمیت پانچ جبکہ جمعرات کو بھی مزید پانچ بچوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
محکمہ صحت کے ترجمان زاہد ریحان نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ 15 مارچ سے شروع ہونے والی یہ وبا گزشتہ کئی دہائیوں میں ملک کی بدترین صورتحال ہے، جس پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ملک گیر ویکسینیشن مہم شروع کر دی گئی ہے۔
حکومت کا ہدف 1 کروڑ 80 لاکھ بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانا ہے۔ حکام کے مطابق اب تک ہدف کا ایک چوتھائی حصہ مکمل کیا جا چکا ہے، تاہم ویکسینیشن کے اثرات ظاہر ہونے میں مزید دو ہفتے لگ سکتے ہیں۔
اس وبا نے کئی خاندانوں سے ان کے لخت جگر چھین لیے ہیں۔ منگل کے روز محمد ساجب اور افشین میم کا تین سالہ اکلوتا بیٹا بھی اسی بیماری کی نذر ہو گیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک رشتہ دار کی جانب سے بچے کی میت اٹھائے جانے کی تصویر نے ہر آنکھ اشکبار کر دی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…