جنوبی کوریا کے استغاثہ نے جمعہ کے روز سابق صدر یون سک یول کے لیے تیس سال قید کی سزا کی استدعا کی ہے۔ یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق سابق صدر پر الزام ہے کہ انہوں نے دسمبر 2024 میں مارشل لاء کے نفاذ کا جواز پیدا کرنے کے لیے پیانگ یانگ کے اوپر ڈرون آپریشن کا حکم دیا تھا۔
سیول ڈسٹرکٹ کورٹ کی جانب سے اس مقدمے کا فیصلہ کسی آئندہ تاریخ پر سنائے جانے کا امکان ہے۔ یہ مقدمہ ان آٹھ قانونی کیسز میں سے ایک ہے جن کا سامنا سابق صدر کو ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ہے۔ یاد رہے کہ مختصر مدت کے لیے نافذ کیے گئے مارشل لاء نے ایشیا کی مستحکم جمہوریت سمجھے جانے والے ملک میں شدید ہلچل پیدا کر دی تھی۔
استغاثہ کا موقف ہے کہ ڈرون آپریشن کے باعث شمالی کوریا کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا اور ایک ڈرون کے گر کر تباہ ہونے سے حساس فوجی معلومات اور جنوبی کوریا کی دفاعی صلاحیتیں بے نقاب ہونے کا خطرہ پیدا ہوا۔
سابق صدر کے وکلاء کے مطابق یون سک یول نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا جس سے شمالی کوریا کے ساتھ فوجی تصادم کا خطرہ پیدا ہو سکے۔
سابق صدر پر گزشتہ برس نومبر میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ ان پر دشمن کو فائدہ پہنچانے کے الزامات بھی شامل ہیں۔ قانون کے مطابق یہ شق اس وقت بھی لاگو ہو سکتی ہے جب جنوبی کوریا کے فوجی مفادات کو نقصان پہنچے یا کسی مخالف قوت کو مدد ملے، چاہے اس کے لیے براہ راست ملی بھگت ثابت نہ بھی ہو۔
پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے خبردار کیا ہے کہ یورپ کے لیے سب سے…
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور جنگ بندی کے…
وائٹ ہاؤس نے جمعرات کو چین پر مصنوعی ذہانت کے امریکی لیبارٹریوں کا انٹیلیکچوئل پراپرٹی…
لاہور (نمائندہ خصوصی) پاک فوج کے بہادر افسر کیپٹن ارباز خان نے معرکہ حق کے…
وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران اسرائیل اور لبنان کے مابین جنگ بندی…
امریکی محکمہ انصاف نے انکشاف کیا ہے کہ وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کی…