پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے خبردار کیا ہے کہ یورپ کے لیے سب سے اہم اور بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا امریکہ کسی روسی حملے کی صورت میں نیٹو کا ایک وفادار اتحادی ثابت ہوگا یا نہیں۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسیوں اور یورپی شراکت داروں کے خلاف ان کے بیانات کے بعد براعظم یورپ میں تشویش بڑھ رہی ہے۔
ٹسک نے کہا کہ مشرقی یورپ کے تمام ممالک کے لیے یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ کیا نیٹو سیاسی اور لاجسٹک اعتبار سے کسی روسی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے روسی حملے کے خدشے کو انتہائی سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ برسوں نہیں بلکہ مہینوں کی مدت پر محیط ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام رکن ممالک کو نیٹو کی ذمہ داریوں کو اسی سنجیدگی سے لینا چاہیے جیسے پولینڈ لیتا ہے۔
سائپرس میں یورپی یونین کے غیر رسمی سربراہی اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ٹسک نے مطالبہ کیا کہ یورپی یونین کو براعظم کے تحفظ کے لیے ایک حقیقی اتحاد بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یورپی یونین کو محض کاغذی اتحاد کے بجائے ایک عملی طاقت بننا ہے تو اسے دفاعی آلات اور افواج کی نقل و حمل کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔
پولینڈ کے وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی اولین ترجیح یورپ کو دوبارہ متحد کرنا ہے جس میں مشترکہ دفاع اور مشرقی سرحدوں کا اجتماعی تحفظ شامل ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ یورپی یونین کو اپنے باہمی دفاعی شق یعنی آرٹیکل بیالیس اعشاریہ سات پر بھی نظر ثانی کرنی چاہیے تاکہ دفاعی ڈھانچے کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کو دو ماہ کا عرصہ گزرنے…
اسلام آباد میں سفارتی سرگرمیاں ایک بار پھر عروج پر ہیں کیونکہ ایران کے وزیر…
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جمعہ کی رات ایک مختصر وفد کے ہمراہ اسلام آباد…
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر…
میکسیکن فوج نے امریکی انٹیلی جنس کی معاونت سے کیے گئے ایک آپریشن کے دوران…
میانمار کے فوجی حکمران اور صدر من آنگ ہلینگ نے ملک کے ساٹھ ٹاؤن شپس…