مالی کے دارالحکومت بماکو سمیت ملک کے مختلف شہروں میں ہفتے کے روز مسلح گروہوں نے مربوط حملے کیے ہیں۔ مقامی حکام اور رہائشیوں کے مطابق دہشت گردوں نے کلیدی تنصیبات اور فوجی بیرکوں کو نشانہ بنایا۔
مالی کی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ نامعلوم مسلح دہشت گرد گروہوں نے بماکو میں مخصوص مقامات پر حملے کیے، تاہم سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پا لیا ہے۔
عینی شاہدین اور صحافیوں کے مطابق بماکو کے مودیبو کیتا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایئرپورٹ کے اوپر ہیلی کاپٹروں کو گشت کرتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ بماکو کے قریب واقع فوجی قصبے کاتی میں بھی فائرنگ اور دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ کاتی وہ مقام ہے جہاں مالی کی فوجی جنتا کے سربراہ جنرل عیسیٰ گوئیتا رہائش پذیر ہیں۔
ملک کے شمالی شہروں کیڈال اور گاؤ میں بھی مسلح گروہوں اور فوج کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ علیحدگی پسند تنظیم ازواد تحریک کے ترجمان محمد الملود رمضان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے جنگجوؤں نے کیڈال اور گاؤ کے کچھ حصوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں مسلح افراد کو سڑکوں پر گشت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ جھڑپوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
امریکی سفارتخانے نے اپنے شہریوں کے لیے سیکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے انہیں محفوظ مقامات پر رہنے اور حساس علاقوں کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ برسوں بعد مالی میں ہونے والا سب سے بڑا اور مربوط حملہ معلوم ہوتا ہے۔
اس خطے میں القاعدہ اور داعش سے منسلک گروہ طویل عرصے سے فعال ہیں، جبکہ شمالی مالی میں علیحدگی پسندوں کی تحریک بھی جاری ہے۔ حالیہ برسوں میں مالی، نائجر اور برکینا فاسو میں سیکیورٹی کی صورتحال بدترین ہو چکی ہے اور ان ممالک کی فوجی حکومتیں داخلی بحران پر قابو پانے میں مشکلات کا شکار ہیں۔
