مالی کے دارالحکومت کے قریب واقع گیریژن شہر کاتی سمیت ملک کے متعدد اہم شہروں میں عسکریت پسندوں کی جانب سے فوجی تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے نتیجے میں وزیر دفاع جنرل سادیو کامارا ہلاک ہو گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حملہ گزشتہ روز کاتی میں واقع جنرل سادیو کامارا کی رہائش گاہ پر کیا گیا، جس کے بعد ان کی ہلاکت کی تصدیق سامنے آئی۔ حملوں کا یہ سلسلہ کاتی تک محدود نہیں رہا بلکہ شدت پسندوں نے بماکو، گاو، کیڈل اور دیگر علاقوں میں بھی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
مبصرین کے مطابق جنرل سادیو کامارا مالی کی فوجی حکومت کے بااثر ترین رہنماؤں میں شمار کیے جاتے تھے۔ وہ 2020 اور 2021 میں ہونے والے فوجی انقلاب کے بعد اقتدار میں آنے والی موجودہ ملٹری لیڈرشپ کا کلیدی حصہ تھے اور انہیں مستقبل کے اہم رہنما کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔
سیکیورٹی ماہرین نے جنرل کامارا کی ہلاکت کو ملکی مسلح افواج کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ان حملوں کی ذمہ داری القاعدہ سے منسلک تنظیم جے این آئی ایم نے تواریگ قیادت والی ایف ایل اے کے ساتھ مل کر قبول کی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…