غزہ: امریکی تعمیر نو کے منصوبے میں تاخیر، فلسطینی ملبے سے سڑکیں بحال کرنے لگے

غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں تباہ ہونے والی سڑکوں کی بحالی کے لیے فلسطینی باشندے اب ملبے کو ہی تعمیراتی سامان کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت شروع کیے گئے اس اقدام کا مقصد تباہ حال شہروں کی تعمیر نو کی جانب پہلا قدم اٹھانا ہے۔

یہ منصوبہ ایک ایسے وقت میں شروع کیا گیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ کے لیے امن منصوبہ تعطل کا شکار ہے، جس کا مقصد اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امداد کی فراہمی اور علاقے کی تعمیر نو تھا۔ اقوام متحدہ اور فلسطینی حکام اس کوشش میں ہیں کہ مقامی مشینری کے ذریعے ملبے کے ان ڈھیروں کو صاف کیا جائے جو ہسپتالوں اور پانی کے کنوؤں تک رسائی میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے غزہ آفس کے سربراہ الیساندرو مراکک کا کہنا ہے کہ غزہ کو تاریخ کے سب سے بڑے ملبے کے چیلنج کا سامنا ہے، جس کا تخمینہ ۶ کروڑ ۱۰ لاکھ ٹن لگایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملبے کو جمع کرنے کے بعد اس کی چھانٹی اور کرشنگ کی جا رہی ہے تاکہ اسے سڑکوں اور کمیونٹی کچن کے لیے دوبارہ استعمال میں لایا جا سکے۔

خان یونس میں بھاری مشینری کے ذریعے تباہ شدہ کنکریٹ کے پہاڑوں کو ہٹانے کا کام جاری ہے، تاہم حکام کے مطابق یہ عمل انتہائی خطرناک ہے۔ ملبہ ہٹانے سے قبل اقوام متحدہ کی مائن سروس کے تعاون سے بارودی مواد کی موجودگی کی جانچ پڑتال لازمی ہے، کیونکہ ملبے تلے دبے دھماکہ خیز مواد سے ورکرز کی جان کو خطرہ لاحق رہتا ہے۔

بتیس سالہ ابراہیم السرساوی، جو اس کام سے منسلک ہیں، کا کہنا ہے کہ روزگار کا کوئی دوسرا ذریعہ نہ ہونے کے باعث وہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر یہ کام کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کام کی جگہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی لائن کے قریب ہونے کی وجہ سے انہیں ہر وقت اسرائیلی فائرنگ کا خطرہ رہتا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق اگر بھاری مشینری اور ایندھن کی بلاتعطل فراہمی جاری رہی، تو بھی غزہ سے ملبہ ہٹانے کا کام مکمل ہونے میں سات سال لگ سکتے ہیں۔ اب تک تقریباً دو لاکھ ستاسی ہزار ٹن ملبہ ہٹایا جا چکا ہے، جسے الیساندرو مراکک نے صرف ایک چھوٹی سی شروعات قرار دیا ہے۔

یورپی یونین، اقوام متحدہ اور عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق غزہ کی مکمل بحالی اور تعمیر نو کے لیے اگلے ایک عشرے کے دوران ۷۱ اعشاریہ ۴ ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ خان یونس کے ایک خیمہ بستی میں مقیم ساٹھ سالہ صبحی داؤد کا کہنا ہے کہ جنگ تو ختم ہو گئی مگر اب تعمیر نو کی ایک نئی جنگ شروع ہوئی ہے جس میں بجلی، پانی، سکولوں اور سڑکوں جیسے بنیادی ڈھانچے کی بحالی سب سے بڑا چیلنج ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

پومپئی: مصنوعی ذہانت کے ذریعے آتش فشاں کے شکار قدیم انسان کے چہرے کی بازیافت

قدیم رومی شہر پومپئی کے ماہرین آثار قدیمہ نے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے…

2 منٹس ago

ایران کی نئی تجویز کے باوجود امریکہ کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات غیر یقینی صورتحال کا شکار

ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کردہ نئی تجویز کے باوجود…

8 منٹس ago

پاکستان نے کنڑ یونیورسٹی پر حملے کے افغان میڈیا کے دعوے مسترد کر دیے

اسلام آباد کی جانب سے افغان میڈیا کے ان دعووں کو سختی سے مسترد کر…

14 منٹس ago

پاکستان نے ایران کے ساتھ تجارت کے لیے نئے ٹرانزٹ کوریڈورز کی منظوری دے دی

حکومت پاکستان نے خطے میں تجارتی روابط کو فروغ دینے اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی…

20 منٹس ago

ایران جوہری معاہدے کے لیے سنجیدہ ہے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ معاہدے کے…

26 منٹس ago

اوپن اے آئی کا مائیکروسافٹ کے ساتھ خصوصی معاہدہ ختم، ایمیزون اور گوگل کے لیے راستے ہموار

مائیکرو سافٹ اور اوپن اے آئی کے درمیان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں قائم تاریخی…

1 گھنٹہ ago