اسلام آباد کی جانب سے افغان میڈیا کے ان دعووں کو سختی سے مسترد کر دیا گیا ہے جن میں افغانستان کے صوبہ کنڑ کی ایک یونیورسٹی پر پاکستانی حملے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے ان اطلاعات کو بے بنیاد، من گھڑت اور سیاسی محرکات کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹولو نیوز کی جانب سے نشر کی جانے والی رپورٹ جس میں دعویٰ کیا گیا کہ پیر کے روز پاکستانی فورسز نے سید جمال الدین افغان یونیورسٹی اور ملحقہ رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور پینتالیس زخمی ہوئے، سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔
وزارت نے واضح کیا کہ اس طرح کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ حکام کا ماننا ہے کہ یہ الزامات ہمدردیاں سمیٹنے اور افغانستان کی داخلی صورتحال سے توجہ ہٹانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔
بیان کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی کارروائیاں صرف مصدقہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی جاتی ہیں اور ان کا مقصد مخصوص خطرات کا خاتمہ ہے۔ پاکستان تعلیمی اداروں سمیت کسی بھی سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ نہیں بناتا۔
وفاقی وزارت نے مزید کہا کہ یہ رپورٹ ایک ایسے تسلسل کا حصہ ہے جس میں غیر تصدیق شدہ اور گمراہ کن معلومات کو میڈیا کے ذریعے پھیلایا جاتا ہے۔ اس طرح کے بیانیے کا مقصد خطے میں پاکستان کے خلاف منفی تاثر قائم کرنا ہے۔
حکام نے ان دعووں کو سیکیورٹی کے وسیع تر خدشات سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ایسی رپورٹنگ دراصل فتنہ الخوارج جیسے عسکریت پسند عناصر کی حمایت کو چھپانے کی کوشش ہے۔ وزارت نے اپنے موقف کا اعادہ کیا کہ سید جمال الدین افغان یونیورسٹی پر کوئی حملہ نہیں ہوا اور یہ الزامات حقائق سے عاری محض پروپیگنڈا ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…