ایران کی جنگ بندی کی نئی تجویز پر صدر ٹرمپ کا عدم اطمینان، امریکی حکام کا انکشاف

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی جانب سے پیش کردہ تازہ ترین تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ایران کی جانب سے جوہری پروگرام پر بات چیت کو جنگ کے اختتام تک مؤخر کرنے کی تجویز کو واشنگٹن میں مسترد کر دیا گیا ہے کیونکہ امریکہ کا موقف ہے کہ جوہری معاملات کو مذاکرات کے آغاز ہی سے ترجیح دی جانی چاہیے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے کہا ہے کہ امریکہ میڈیا کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا اور اپنی سرخ لکیروں کے حوالے سے واضح موقف رکھتا ہے۔ یہ جنگ اس وقت شروع ہوئی تھی جب امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں ایرانی فوجی اور شہری مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک اسکول پر حملے کے دوران 168 بچوں سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

امن کوششوں کو اس وقت دھچکا لگا جب صدر ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر کا دورہ اسلام آباد منسوخ کر دیا۔ اسی دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ویک اینڈ پر دو بار اسلام آباد کا دورہ کیا اور بعد ازاں روس پہنچ کر صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی۔ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکہ نے مذاکرات کی درخواست اس لیے کی ہے کیونکہ وہ جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

ایران کی تجویز کے مطابق پہلے مرحلے میں جنگ کا خاتمہ اور دوبارہ جارحیت نہ کرنے کی ضمانتیں دی جانی چاہئیں، جس کے بعد سمندری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کے معاملات حل کیے جائیں گے۔ ایران کا اصرار ہے کہ جوہری پروگرام پر بات چیت حتمی مراحل میں ہونی چاہیے اور امریکہ کو یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا۔

جنگ کے جاری رہنے اور فریقین کے درمیان خلیج برقرار رہنے کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔ سٹی انڈیکس کے مارکیٹ تجزیہ کار فواد رزاق زادہ کے مطابق تیل کے تاجروں کے لیے اب بیانات سے زیادہ آبنائے ہرمز سے خام تیل کی ترسیل اہمیت رکھتی ہے جو فی الحال شدید متاثر ہے۔

شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکی ناکہ بندی کے باعث ایرانی تیل لے جانے والے کم از کم چھ ٹینکرز کو واپس مڑنا پڑا ہے۔ کیپلر کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جنگ سے قبل روزانہ 125 سے 140 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے، تاہم گزشتہ روز صرف سات جہاز گزر سکے جن میں سے کوئی بھی عالمی منڈی کے لیے تیل لے کر نہیں جا رہا تھا۔ ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی کارروائیوں کو سمندری قزاقی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

4 ہفتے ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

4 ہفتے ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

4 ہفتے ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

4 ہفتے ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

4 ہفتے ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

4 ہفتے ago