تہران نے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی مذاکرات کے آغاز سے قبل آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کی جائے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی جانب سے پیش کردہ تازہ ترین تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے جس کے بعد جاری دو ماہہ جنگ کے خاتمے کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔ اس تنازع نے عالمی توانائی کی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے اور مہنگائی میں اضافے کے ساتھ ہزاروں جانوں کا ضیاع بھی ہوا ہے۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ ایران کی اس تجویز سے خوش نہیں ہیں جس میں جوہری پروگرام پر بات چیت کو جنگ کے خاتمے اور سمندری تنازعات کے حل تک مؤخر کرنے کا کہا گیا ہے۔ امریکی صدر چاہتے ہیں کہ جوہری مسائل کو مذاکرات کے ایجنڈے میں سر فہرست رکھا جائے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے کہا ہے کہ امریکہ اپنی سرخ لکیروں کے حوالے سے واضح موقف رکھتا ہے۔
امن کوششوں کی بحالی کی امیدیں اس وقت مزید مدہم پڑ گئیں جب صدر ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر کا پاکستان کا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے آخر میں دو بار اسلام آباد کا دورہ کیا جبکہ انہوں نے عمان اور روس کا بھی سفر کیا جہاں انہوں نے صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی۔
ایرانی نائب وزیر دفاع رضا طلائی نیک نے منگل کے روز کہا کہ تہران شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک سمیت آزاد اقوام کے ساتھ دفاعی صلاحیتیں شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تین فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تاجروں کی توجہ اب بیان بازی کے بجائے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل پر مرکوز ہے جو تاحال معطل ہے۔
شپ ٹریکنگ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران امریکہ کی جانب سے کم از کم چھ ایرانی آئل ٹینکرز کو واپس موڑ دیا گیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے اس اقدام کو سمندری قزاقی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ تاہم ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا ہے کہ تہران نے ناکہ بندی کے متبادل کے طور پر شمالی، مشرقی اور مغربی تجارتی راہداریوں کا انتظام کر لیا ہے اور تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔
جنگ سے قبل آبنائے ہرمز سے روزانہ 125 سے 140 جہاز گزرتے تھے، جبکہ گزشتہ روز صرف سات جہاز وہاں سے گزرے جن میں سے کوئی بھی عالمی منڈی کے لیے تیل لے کر نہیں جا رہا تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق ان کی تجویز میں مذاکرات کو مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے، جس میں پہلا قدم جنگ کا خاتمہ اور امریکی بحریہ کی ناکہ بندی کا اختتام شامل ہے۔ جوہری پروگرام پر بات چیت سب سے آخر میں کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس میں ایران امریکہ سے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کروانا چاہتا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے منگل کے روز تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک…
وائٹ ہاؤس نے پیر کے روز کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے…
لاہور میں واہگہ بارڈر پر معرکہ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پر ایک پروقار…
غزہ کی پٹی میں منگل کے روز اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں نو سالہ بچے…
لاہور ہائی کورٹ نے نو مئی کے ہنگامہ آرائی کیسز میں سزا معطلی کی اپیلوں…
اٹلی میں صنفی مساوات اور خاندانی ذمہ داریوں کے بدلتے ہوئے رجحانات کے درمیان، ڈیڈ…