چین کے جنوبی شہروں میں شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث نظام زندگی متاثر ہوا ہے، جہاں دو سو سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق صوبہ گوانگسی کے شہر کنژو میں موسلا دھار بارشوں کے بعد سڑکیں تالاب بن گئیں اور متعدد گاڑیاں پانی میں ڈوب گئیں۔
ریسکیو ٹیموں نے کشتیوں کی مدد سے گھروں میں پھنسے شہریوں کو باہر نکالا۔ سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی فوٹیجز میں امدادی کارکنوں کو سینے تک گہرے پانی میں اتر کر بزرگ شہریوں کو اٹھائے ہوئے منتقل کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
مقامی محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق پیر کی صبح آٹھ بجے تک چوبیس گھنٹوں کے دوران شہر میں دو سو ستر ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات کے حکام کا کہنا ہے کہ اپریل کے مہینے میں ایک ہی دن میں اتنی زیادہ بارش ریکارڈ کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
ماہرین موسمیات کے مطابق جنوبی چین کے ساحلی علاقوں میں اس قدر شدید بارشیں عام طور پر مئی کے وسط یا آخر میں موسم گرما کے مون سون کے آغاز کے بعد ہوتی ہیں۔ اپریل کے اختتام پر ایسی موسمی صورتحال انتہائی غیر معمولی قرار دی جا رہی ہے۔
چینی حکام کے مطابق منگل کی صبح سے صورتحال میں بہتری آنا شروع ہو گئی، جس کے بعد شہر بھر کے تعلیمی ادارے دوبارہ کھل گئے ہیں اور ٹریفک کا نظام بھی معمول پر آ چکا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…