امریکی پابندیوں میں توسیع کے اشارے، ٹرمپ کا ایران پر معاہدے کے لیے زور

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ جلد از جلد دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی معاہدے پر دستخط کرے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ تہران اپنے معاملات کو درست کرنے میں ناکام رہا ہے اور انہیں جلد سمجھداری دکھانی چاہیے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے معاونین کو ایران کی بندرگاہوں کا محاصرہ بڑھانے کی ہدایت کی ہے تاکہ تہران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا سکے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ معیشت اور تیل کی برآمدات پر دباؤ برقرار رکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک دیگر آپشنز جیسے کہ دوبارہ بمباری یا تنازع سے دستبرداری زیادہ پرخطر ہیں۔

ایران کا موقف ہے کہ امریکہ کو پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کے اس کے حق کو تسلیم کرنا چاہیے۔ ایران کے پاس اس وقت تقریباً 440 کلوگرام یورینیم موجود ہے جسے 60 فیصد تک افزودہ کیا گیا ہے، اور اگر اسے مزید افزودہ کیا جائے تو یہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہو سکتا ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ محاصرے کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور متبادل تجارتی راستے استعمال کر رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے پیش کردہ تازہ ترین تجویز میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ جوہری پروگرام پر بات چیت تنازع کے باضابطہ خاتمے اور شپنگ کے مسائل حل ہونے کے بعد کی جائے۔ تاہم صدر ٹرمپ کا مطالبہ ہے کہ جوہری مسئلے پر ابتدا سے ہی بات چیت ہونی چاہیے۔

امریکی انٹیلیجنس ایجنسیاں اس امکان کا جائزہ لے رہی ہیں کہ اگر صدر ٹرمپ دو ماہ سے جاری اس جنگ میں یکطرفہ فتح کا اعلان کرتے ہیں تو ایران کا ردعمل کیا ہوگا۔ یہ جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی تھی اور تب سے ایران نے آبنائے ہرمز سے اپنی جہاز رانی کے علاوہ دیگر تمام ٹریفک کو روک رکھا ہے۔

ایران میں اعلیٰ سیاسی اور عسکری شخصیات کی ہلاکتوں کے بعد تہران کا مذاکراتی موقف سخت ہو گیا ہے۔ جنگ کے پہلے روز آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت اور ان کے زخمی بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈر بننے کے بعد پاسدارانِ انقلاب کے سخت گیر کمانڈروں کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے۔

ادھر امریکہ میں صدر ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف کم ہو کر 34 فیصد پر آ گیا ہے، جس کی بڑی وجہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور غیر مقبول جنگ ہے۔ دوسری جانب ایران کی بندرگاہوں کے طویل محاصرے کے خدشے کے پیش نظر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تین فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور برینٹ آئل کی قیمت ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ورلڈ بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگی حالات برقرار رہے تو 2026 میں توانائی کی قیمتوں میں 24 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

1 مہینہ ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

1 مہینہ ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

1 مہینہ ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

1 مہینہ ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

1 مہینہ ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

1 مہینہ ago