غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے بحری جہازوں کو یونان کے قریب بین الاقوامی سمندری حدود میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے روکے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس کارروائی کے دوران اسرائیلی بحری جہازوں اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔
گلوبل صمود فلوٹیلا کی جانب سے جاری کردہ بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ ان کے جہازوں کو بدھ کے روز اسرائیلی فورسز نے گھیرے میں لے لیا تھا۔ اس حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر جاری پیغامات میں کارکنوں نیو او کونر اور فلیپا فالتھ نے بتایا کہ انہیں اپنی کشتیوں کے قریب اسرائیلی بحری جہاز اور ڈرونز نظر آئے۔
نیو او کونر نے اپنی پوسٹس میں بتایا کہ وہ گلوبل صمود فلوٹیلا کے عملے کا حصہ ہیں اور انہوں نے 12 اپریل کو بارسلونا سے سفر کا آغاز کیا تھا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز کے بارے میں تاحال آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی تاہم یہ ویڈیوز 29 اپریل سے قبل انٹرنیٹ پر موجود نہیں تھیں۔
اسرائیلی فورسز کی جانب سے 29 اپریل کو ہی غزہ جانے والے امدادی جہازوں کو اپنے قبضے میں لینے کے عمل کا آغاز کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ جبکہ فلوٹیلا کے منتظمین نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ 30 اپریل کو اسرائیلی حکام نے ان کی امدادی کھیپ کو روک لیا تھا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…