تہران نے امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ایک نیا 14 نکاتی مسودہ پاکستان کے ذریعے واشنگٹن کو بھجوا دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ انہیں ایران کی جانب سے نئی تجاویز موصول ہوئی ہیں جن کا وہ جائزہ لے رہے ہیں۔
ایئر فورس ون میں سوار ہونے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ اس معاملے پر جلد ہی اپنی رائے سے آگاہ کریں گے اور فی الحال انہیں ایرانی تجاویز کے حتمی متن کا انتظار ہے۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسیوں تسنیم اور فارس کے مطابق یہ 14 نکاتی فارمولا امریکہ کی نو نکاتی تجاویز کے جواب میں تیار کیا گیا ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے تہران میں تعینات غیر ملکی سفیروں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ تہران نے پاکستان کو ثالث کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنا موقف واضح کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران قومی مفادات کے تحفظ کے لیے سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے تاہم وہ اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہے۔
کاظم غریب آبادی نے واضح کیا کہ اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے کہ وہ تصادم کا راستہ اختیار کرتا ہے یا سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی ماضی کی وعدہ خلافیوں کے باعث تہران کو واشنگٹن پر بدستور عدم اعتماد ہے۔ اس سے قبل چین اور روس کے سفیروں نے بھی ایرانی نائب وزیر خارجہ کے ساتھ سہ فریقی ملاقات میں اس مسودے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
یاد رہے کہ 7 اپریل کو دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے بعد 11 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات ہوئے تھے جو کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل ایران کی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایرانی قیادت کے مطالبات سے مطمئن نہیں ہیں اور مذاکرات میں تعطل برقرار ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی صدر کے اس بیان کی شدید مذمت کی ہے جس میں انہوں نے ایرانی بحری جہازوں کو قبضے میں لینے کو بحری قزاقی سے تشبیہ دی تھی۔ ایرانی ترجمان نے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مجرمانہ رویے کا نوٹس لے۔
ادھر اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے مطالبے کو دہراتے ہوئے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی امداد کی ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے حکومتوں کو لاجسٹک اور ایندھن کے اخراجات میں چھوٹ دینی چاہیے تاکہ امدادی سامان کی بروقت فراہمی ممکن ہو سکے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے…
وزیر اعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز توانائی کے شعبے میں اصلاحات سے متعلق…
تہران میں ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران نے…
پشاور کی احتساب عدالت نے سرکاری ادویات کی خریداری میں کروڑوں روپے کی مبینہ کرپشن…
ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے مظفرآباد میں دریائی بہاؤ میں غیر معمولی اضافے کے پیش…
ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان نے عمان میں پاکستانی سفارت خانے کے اشتراک سے رائس…