جرمن وزیر خارجہ جوہن ویڈفل نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے کے دوران تہران پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول دے اور اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام سے دستبردار ہو جائے۔ اس مطالبے کے ساتھ ہی برلن نے واشنگٹن کے موقف کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں جوہن ویڈفل نے کہا کہ جرمنی مذاکرات کے ذریعے حل کا حامی ہے تاہم بطور امریکی اتحادی ہمارا ہدف مشترکہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں سے مکمل اور تصدیق شدہ دستبرداری اختیار کرے۔ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطالبات کی تائید کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کی بحالی کو ناگزیر قرار دیا۔
یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب برلن اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرز کی جانب سے 27 اپریل کو دیے گئے اس بیان نے تنازع کو جنم دیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران مذاکرات کی میز پر امریکہ کو تضحیک کا نشانہ بنا رہا ہے جس پر وائٹ ہاؤس نے سخت ردعمل دیا تھا۔
اس کشیدگی کے تناظر میں ٹرمپ انتظامیہ نے جرمنی میں قائم فوجی اڈوں سے 5 ہزار امریکی فوجیوں کو منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ساتھ ہی یورپی یونین سے درآمد کی جانے والی گاڑیوں اور ٹرکوں پر محصولات کی شرح 15 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے یورپی یونین پر گزشتہ موسم گرما میں طے پانے والے تجارتی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
ان محصولات کا سب سے زیادہ اثر جرمن آٹو موبائل انڈسٹری پر پڑے گا کیونکہ امریکہ جرمنی کی برآمدات کی سب سے بڑی منڈیوں میں شامل ہے۔ اپریل کے اوائل میں جنگ بندی کے باوجود ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے خاتمے کے لیے پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے اور عالمی سطح پر کشیدگی بڑھنے کے خدشات پائے جاتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے تہران کی جانب سے پیش کردہ نئی تجاویز کا جائزہ لینے کا عندیہ دیا ہے تاہم انہوں نے اسے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے ابھی تک اپنی غلطیوں کی کافی قیمت ادا نہیں کی ہے۔ دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو اب یا تو ناممکن آپریشن کا راستہ چننا ہوگا یا پھر اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ایک سمجھوتے پر آمادہ ہونا پڑے گا۔
آبنائے ہرمز کی بندش یورپی حکومتوں کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کی پانچویں بڑی تیل کی سپلائی اسی راستے سے ہوتی تھی اور یورپی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ اس راستے کی بندش کے معاشی اثرات عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
یوکرین نے اتوار کے روز روس کے تیل کی تنصیبات اور بندرگاہوں کو ڈرون حملوں…
اسرائیلی عدالت نے غزہ جانے والے امدادی قافلے میں شامل دو غیر ملکی کارکنوں کے…
لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں سیزن کے فائنل میچ میں…
لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے…
سویڈن کے کوسٹ گارڈ نے بحیرہ بالٹک میں روس کے مبینہ شیڈو فلیٹ سے تعلق…
برلن میں جرمن وزیر خارجہ جوہن ویڈے فُل نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی…