جنگ کے باوجود ایران کی جوہری صلاحیت بدستور برقرار، امریکی انٹیلی جنس کا انکشاف

امریکی خفیہ اداروں کی حالیہ رپورٹس کے مطابق ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کے دورانیے میں گزشتہ موسم گرما کے بعد سے کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود تہران کا جوہری پروگرام بدستور اسی سطح پر ہے، جس کا تخمینہ گزشتہ برس ایک سال تک لگایا گیا تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے جوہری عزائم کو روکنے کے لیے شروع کی گئی جنگ کو دو ماہ گزر چکے ہیں، تاہم ان کارروائیوں کے باوجود تہران کے پروگرام میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تنزلی نہیں دیکھی گئی۔ 28 فروری سے جاری حالیہ حملوں میں اسرائیل نے متعدد اہم جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، لیکن زیادہ تر توجہ روایتی فوجی اہداف پر مرکوز رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر روکنے کے لیے اس کے پاس موجود انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ختم کرنا ناگزیر ہے۔ اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے مطابق ایران کے پاس موجود یورینیم کے ذخائر سے مزید افزودگی کے بعد دس ایٹمی بم بنائے جا سکتے ہیں۔ ادارے کو 440 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیم کے ٹھکانے کے بارے میں بھی خدشات ہیں، جن کی تصدیق معائنہ معطل ہونے کے باعث ممکن نہیں ہو سکی۔

سات اپریل کو ہونے والی جنگ بندی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ٹریفک کو روک رکھا ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں 20 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے اور عالمی توانائی بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے کہا ہے کہ آپریشن مڈنائٹ ہیمر اور آپریشن ایپک فیوری کے ذریعے ایران کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اپنے اس موقف پر قائم ہیں کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹ نے عوامی سطح پر کہا ہے کہ امریکہ تہران کے ساتھ جاری مذاکرات کے ذریعے اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ایران ایٹمی قوت نہ بن سکے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی سوشل میڈیا پر جاری بیان میں دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت دینا کسی صورت ممکن نہیں اور یہی اس فوجی آپریشن کا بنیادی مقصد ہے۔

ادھر امریکی خفیہ اداروں کے ڈائریکٹر کے دفتر نے ان رپورٹس پر کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کی رفتار میں تبدیلی نہ آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حالیہ فوجی مہمات کا مرکز تہران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے دیگر عسکری اہداف پر زیادہ رہا ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

لاہور میں ہلکی بارش سے موسم خوشگوار، لیسکو کے متعدد فیڈرز ٹرپ کر گئے

صوبائی دارالحکومت لاہور اور گردونواح میں پیر کی شب شروع ہونے والی تیز ہواؤں اور…

1 منٹ ago

اسحاق ڈار اور ناروے کے نائب وزیر خارجہ کی ملاقات، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے ناروے کے نائب وزیر خارجہ…

1 گھنٹہ ago

مراکش: ساتھی کو بچانے کی کوشش میں لاپتہ ہونے والے امریکی فوجی کی تلاش جاری

مراکش کے ساحل پر لاپتہ ہونے والے دو امریکی فوجی اہلکاروں کی تلاش کے لیے…

2 گھنٹے ago

پاکستان کی جانب سے 22 ایرانی عملے کی بحفاظت وطن واپسی میں معاونت

وزارت خارجہ پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ کی جانب سے قبضے میں لیے…

2 گھنٹے ago

اینکر پرسن مرید عباس قتل کیس: مرکزی ملزم نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروا دیا

اینکر پرسن مرید عباس کے قتل کیس کے مرکزی ملزم عاطف زمان نے سیشن کورٹ…

4 گھنٹے ago

دوسری جنگ عظیم کی سالگرہ: روس اور یوکرین کا ایک دوسرے کے خلاف عارضی جنگ بندی کا اعلان

روس نے یوکرین کے خلاف آٹھ اور نو مئی کو یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان…

5 گھنٹے ago