-Advertisement-

مشہور امریکی ملبوسات برانڈ ‘گیپ’ کی شریک بانی ڈورس فشر 94 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

تازہ ترین

کولمبیا: کوئلے کی کان میں دھماکے سے 9 مزدور ہلاک

کولمبیا کے صوبے کنڈی نامارکا میں واقع کوئلے کی ایک کان میں دھماکے کے نتیجے میں نو کان کن...
-Advertisement-

امریکی ملبوسات کے معروف برانڈ گیپ کی شریک بانی ڈورس فشر 94 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رچرڈ ڈکسن نے ایک بیان میں ان کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔

ڈورس فشر اور ان کے آنجہانی شوہر ڈونلڈ فشر نے 1969 میں سان فرانسسکو کے اوشین ایونیو پر گیپ کا پہلا سٹور کھولا تھا۔ اس وقت یہ سٹور لیویز جینز کے ساتھ ساتھ ریکارڈز اور کیسٹ ٹیپس فروخت کرتا تھا۔

ڈورس فشر نے ہی اس برانڈ کا نام گیپ تجویز کیا تھا، جس کا مقصد بیبی بومرز نسل اور ان کے والدین کے درمیان موجود خلیج کی عکاسی کرنا تھا، تاکہ نوجوانوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ کو ہدف بنایا جا سکے۔

ستر کی دہائی میں ڈینم کی مانگ میں اضافے کے ساتھ ہی یہ برانڈ دنیا کے بااثر ترین ملبوسات کے ریٹیلرز میں شامل ہو گیا۔ ڈورس فشر اس کاروباری سفر میں اپنے شوہر کے ساتھ برابر کی شراکت دار تھیں اور انہوں نے کاروبار میں مساوی سرمایہ کاری کرنے کے ساتھ پہلے سٹور پر عملی طور پر کام بھی کیا۔

گیپ آج دنیا بھر میں تقریباً 3570 سٹورز کا نیٹ ورک چلا رہا ہے، جن میں ڈھائی ہزار سے زائد کمپنی کے زیر انتظام اور ایک ہزار سے زائد فرنچائز سٹورز شامل ہیں۔ کمپنی کے زیر اہتمام اولڈ نیوی، گیپ، بنانا ریپبلک اور ایتھلیٹا جیسے برانڈز کام کر رہے ہیں اور تازہ ترین مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق کمپنی کی سالانہ فروخت 15 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

ڈورس فشر 2003 تک مرچنڈائزنگ کنسلٹنٹ رہیں اور 2009 تک بورڈ کا حصہ رہنے کے بعد تاحیات اعزازی ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز رہیں۔ انہوں نے گیپ فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی اور کمپنی کے کلچر میں فلاحی کاموں کو شامل کیا۔

اگرچہ ڈونلڈ فشر زیادہ تر عوامی سطح پر نظر آتے تھے، تاہم ڈورس نے کمپنی کے ابتدائی کلچر اور شناخت کو تشکیل دینے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ انہوں نے سادہ ڈیزائن، مناسب قیمتوں اور کام کی جگہ پر انصاف اور مساوات کے اصولوں کو فروغ دیا، جس میں مرد و خواتین کو مساوی کام کا یکساں معاوضہ دینے کی حمایت بھی شامل تھی۔

ڈونلڈ فشر کا انتقال 2009 میں ہوا تھا۔ ڈورس فشر اپنے پیچھے تین بیٹے چھوڑ گئی ہیں جو اب بھی خاندانی کاروبار اور فلاحی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -