امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب سیکیورٹی فورسز اور ایک مسلح مشتبہ شخص کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں مشتبہ شخص زخمی ہو گیا۔ امریکی سیکرٹ سروس کے مطابق یہ واقعہ پیر کے روز پیش آیا جس کے بعد وائٹ ہاؤس کو کچھ دیر کے لیے لاک ڈاؤن کر دیا گیا تھا۔
سیکرٹ سروس کے ڈپٹی ڈائریکٹر میتھیو کوئن نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ افسران نے وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے بیرونی احاطے میں ایک مشتبہ شخص کو دیکھا جس کے پاس اسلحہ موجود تھا۔ جب اہلکاروں نے اس کی جانب پیش قدمی کی تو وہ فرار ہونے کی کوشش میں فائرنگ کرتا رہا۔ جوابی کارروائی میں سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے فائرنگ کی جس سے مشتبہ شخص زخمی ہو گیا جسے بعد ازاں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
میتھیو کوئن نے مزید بتایا کہ اس واقعے کے دوران ایک کم عمر راہگیر بھی مشتبہ شخص کی فائرنگ کی زد میں آیا تاہم اسے کوئی جان لیوا چوٹ نہیں آئی اور وہ زیر علاج ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مشتبہ شخص وائٹ ہاؤس کی حدود کے اندر نہیں تھا اور اس واقعے کا تعلق نائب صدر جے ڈی وینس کے قافلے سے نہیں ہے جو کچھ دیر قبل وہاں سے گزرا تھا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ واقعے کے وقت وائٹ ہاؤس کے اندر موجود تھے۔ اس سوال پر کہ کیا یہ حملہ صدر کی زندگی پر حالیہ کوششوں کا تسلسل ہے، میتھیو کوئن نے کہا کہ ابھی یہ تعین کرنا قبل از وقت ہے کہ آیا اس کا ہدف صدر تھے یا نہیں، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔
سیکرٹ سروس نے جائے وقوعہ سے اسلحہ برآمد کر لیا ہے جبکہ ڈی سی پولیس ڈیپارٹمنٹ واقعے کی تفتیش کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ امریکی دارالحکومت میں حال ہی میں وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ایسوسی ایشن ڈنر کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کے بعد سے سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔
