تہران نے امریکہ پر جنگ کا راستہ منتخب کرنے کا براہ راست الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے کے عالمی سطح پر سنگین نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں عدم استحکام کی ذمہ داری امریکی پالیسیوں پر عائد ہوتی ہے اور عالمی برادری کو واشنگٹن کے اقدامات کا محاسبہ کرنا چاہیے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران سے جاری ایک بیان میں کہا کہ موجودہ کشیدگی امریکہ کا شعوری انتخاب ہے جس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا ان کا سامنا کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران محاذ آرائی کو طول دینے کے بجائے تنازعات کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کو اپنی اولین ترجیح سمجھتا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی بات چیت شدید بداعتمادی کے سائے میں ہو رہی ہے۔ انہوں نے گزشتہ برس جون اور 28 فروری کو پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے غیر اشتعال انگیز اقدامات تہران کے لیے تشویش کا باعث ہیں اور یہی تجربات ایران کی موجودہ سفارتی حکمت عملی کا تعین کر رہے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایران اب کسی بھی ایسی غیر نتیجہ خیز بحث میں وقت ضائع نہیں کرے گا جس سے کوئی ٹھوس پیشرفت نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ہر مرحلے پر انتہائی چوکس رہے گا اور اگر واشنگٹن واقعی سفارتکاری میں سنجیدہ ہے تو اسے اپنے عمل سے نیک نیتی کا ثبوت دینا ہوگا۔
ایرانی ترجمان کے مطابق تہران کی جانب سے تحمل کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے جبکہ امریکہ یکطرفہ فوجی فیصلوں کے ذریعے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واشنگٹن کو اپنی پالیسیوں میں شفافیت اور سنجیدگی لانا ہوگی تاکہ کسی بھی ممکنہ پیشرفت کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…