سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان خلیجی اتحاد میں دراڑیں گہری ہو گئیں

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مابین طویل عرصے سے قائم اتحاد میں دراڑیں گہری ہونے لگی ہیں۔ تیل کی پالیسی، علاقائی تنازعات اور اقتصادی اثر و رسوخ کے حصول کے لیے دونوں خلیجی طاقتوں کے مابین بڑھتی ہوئی مسابقت نے انہیں ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے۔

اوپیک سے متحدہ عرب امارات کے علیحدگی کے فیصلے نے سعودی عرب کے ساتھ ان کے بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔ روایتی طور پر تیل پیدا کرنے والے ممالک کے اس بلاک پر سعودی عرب کا غلبہ رہا ہے اور ریاض عالمی توانائی کی منڈیوں کو اپنے اثر و رسوخ کے تحت چلانے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ ابوظہبی کا یہ اقدام تیل کی پیداوار بڑھانے اور اپنی الگ توانائی حکمت عملی اپنانے کی خواہش کا غماز ہے۔

ایک دہائی قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید کے درمیان یمن کے تنازع، قطر کے سفارتی تنہائی اور ایران کے اثر و رسوخ کو روکنے جیسے معاملات پر مکمل ہم آہنگی پائی جاتی تھی۔ تاہم اب دونوں ممالک کے معاشی اہداف ایک دوسرے کے مدمقابل آ چکے ہیں۔

سعودی عرب کا خود کو عالمی کاروباری اور سیاحتی مرکز بنانے کا عزم متحدہ عرب امارات بالخصوص دبئی کے لیے براہ راست چیلنج بن چکا ہے جو طویل عرصے سے خطے کا مالیاتی مرکز ہے۔ ریاض کی جانب سے بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے سعودی عرب میں اپنے علاقائی ہیڈ کوارٹر قائم کرنے کی شرط نے بھی مسابقت کو مزید ہوا دی ہے۔ مصنوعی ذہانت، قابل تجدید توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں بھی دونوں ممالک عالمی سرمایہ کاری حاصل کرنے کے لیے بھاری سرمایہ خرچ کر رہے ہیں۔

علاقائی تنازعات میں بھی دونوں ممالک کے موقف میں نمایاں فرق دیکھا گیا ہے۔ یمن میں جہاں سعودی اتحاد نے مشترکہ محاذ بنایا تھا، وہیں وقت گزرنے کے ساتھ دونوں کے حمایت یافتہ گروہ الگ ہو گئے۔ متحدہ عرب امارات جنوبی علیحدگی پسندوں کی حمایت کرتا رہا جبکہ سعودی عرب یمن کی علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنے پر زور دیتا رہا۔ سوڈان کی خانہ جنگی میں بھی مبینہ طور پر دونوں ممالک کے مختلف گروہوں کے ساتھ روابط رہے ہیں، اگرچہ ابوظہبی ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود دونوں حکومتیں سفارتی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں اور بعض سکیورٹی امور پر تعاون کر رہی ہیں۔ سعودی عرب نے حالیہ عرصے میں ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات پر مبینہ حملوں کے بعد ابوظہبی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تعاون کا عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ تاہم اوپیک سے دوری اور تزویراتی اختلافات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان دو خلیجی طاقتوں کے مابین مسابقت آنے والے برسوں میں خطے کی سیاست اور توانائی کی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

معرکہ حق کی فتح بھارت کے لیے واضح اور دو ٹوک پیغام ہے: خواجہ آصف

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ معرکہ حق کی شاندار فتح نے…

27 منٹس ago

آبنائے ہرمز میں فرانسیسی بحری جہاز پر حملہ، عملے کے ارکان زخمی

فرانسیسی شپنگ گروپ سی ایم اے سی جی ایم نے تصدیق کی ہے کہ ان…

32 منٹس ago

ملازمت کے حصول کے لیے مصنوعی ذہانت کی مہارتیں ناگزیر، سیکھنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟

موجودہ دور کی ملازمت مارکیٹ میں مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس میں مہارت روزگار…

1 گھنٹہ ago

امریکہ کا پشاور میں قائم قونصل خانہ مرحلہ وار بند کرنے کا اعلان

امریکی محکمہ خارجہ نے پشاور میں قائم اپنے قونصلیٹ جنرل کو مرحلہ وار بند کرنے…

1 گھنٹہ ago

پاکستانی فنکاروں کا مصنوعی ذہانت کے ذریعے میٹ گالا 2026 کے لیے منفرد انداز میں اظہار

نیویارک میں منعقدہ میٹ گالا 2026 کے چرچے اس وقت سوشل میڈیا پر عروج پر…

2 گھنٹے ago

ایران کا امریکا کے ساتھ جامع معاہدے کے حصول کے لیے آمادگی کا اظہار

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بیجنگ میں چین کے اعلیٰ سفارت کار وانگ ژی…

2 گھنٹے ago