امریکی محکمہ خارجہ نے پشاور میں قائم اپنے قونصلیٹ جنرل کو مرحلہ وار بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کے بعد خیبر پختونخوا سے متعلق تمام سفارتی امور کی ذمہ داری اسلام آباد میں موجود امریکی سفارت خانے کو منتقل کر دی گئی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ فیصلہ سفارتی عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے اور دستیاب وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لانے کے لیے کیا گیا ہے۔ واشنگٹن نے واضح کیا ہے کہ قونصلیٹ کی بندش کے باوجود پاکستان کے حوالے سے امریکی پالیسی کی ترجیحات بدستور برقرار ہیں۔
امریکی بیان میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے مقامی حکام اور عوام کے ساتھ رابطے بدستور جاری رہیں گے۔ ان رابطوں کا محور اقتصادی تعاون، علاقائی سلامتی اور باہمی دلچسپی کے امور ہوں گے۔
اعلامیے کے مطابق اگرچہ پشاور میں امریکی موجودگی کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے تاہم پاکستان میں امریکی انتظامیہ کی پالیسیوں کا تسلسل قائم رہے گا۔ اس تبدیلی کے بعد امریکی مشن اپنے اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں قائم دفاتر کے ذریعے سفارتی سرگرمیاں جاری رکھے گا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے سفارتی کوششیں پوری تندہی سے جاری رہیں گی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…