امن منصوبے پر ایران کا جواب تاحال موخر، امریکی سفارت کاری پر سوالات اٹھا دیے

خلیج فارس میں بحری جھڑپوں کے نئے واقعات کے بعد ایران نے امریکی سفارت کاری کی سنجیدگی پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ تہران کی جانب سے واشنگٹن کی تازہ ترین پیشکش پر کوئی ردعمل تاحال سامنے نہیں آیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا تھا کہ انہیں ایران کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع اور امن مذاکرات کے حوالے سے جواب کی توقع ہے تاہم اس حوالے سے کوئی پیش رفت ظاہر نہیں ہوئی۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ترک ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو میں امریکی قیادت کے قابل اعتبار ہونے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ خلیج فارس میں امریکی افواج کی حالیہ اشتعال انگیزی اور جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزی نے سفارتی عمل میں امریکی نیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

جمعہ کے روز ایک واقعے میں امریکی لڑاکا طیاروں نے ایران کے دو آئل ٹینکرز کو نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا۔ واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ یہ جہاز ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کو چیلنج کر رہے تھے۔ ایرانی عسکری حکام کے مطابق ایران کی بحریہ نے امریکی دہشت گردی کا جواب دیا ہے اور اب جھڑپیں تھم چکی ہیں۔ یہ کشیدگی آبنائے ہرمز کے قریب ہوئی جسے ایران اپنے کنٹرول میں لے کر عالمی جہاز رانی پر اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ تہران کا اس اہم تجارتی راستے پر کنٹرول ناقابل قبول ہے۔ امریکا نے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے ایران کو جنگ بندی میں توسیع کی تجویز دی ہے تاکہ دس ہفتے قبل شروع ہونے والے تنازع کا حتمی حل نکالا جا سکے۔ ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ یہ تجویز تاحال زیر غور ہے۔

ادھر قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے واشنگٹن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی جس میں پاکستان کی قیادت میں امن کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دوسری جانب ایران کے جزیرہ خارگ کے قریب سمندر میں تیل کا ایک بڑا پھیلاؤ دیکھا گیا ہے جو بیس مربع میل سے زائد رقبے پر محیط ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پھیلاؤ تیل تنصیبات سے اخراج کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

خلیج میں کشیدگی کے درمیان لبنان میں قائم جنگ بندی بھی دباؤ کا شکار ہے۔ لبنانی میڈیا کے مطابق ہفتے کے روز بیروت کے جنوب میں تین فضائی حملے کیے گئے، حالانکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تین ہفتوں سے جنگ بندی نافذ ہے۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب لبنان اور اسرائیل کے درمیان آئندہ ہفتے واشنگٹن میں براہ راست مذاکرات متوقع ہیں، جن کی حزب اللہ شدید مخالفت کر رہی ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

1 مہینہ ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

1 مہینہ ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

1 مہینہ ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

1 مہینہ ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

1 مہینہ ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

1 مہینہ ago