گزشتہ ماہ غزہ جانے والے امدادی قافلے کو اسرائیلی فورسز کی جانب سے روکے جانے کے بعد حراست میں لیے گئے دو غیر ملکی کارکنوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ وکلاء کے مطابق دونوں افراد کو جلد ملک بدر کر دیا جائے گا۔
ہسپانوی شہری سیف ابو کشک اور برازیل سے تعلق رکھنے والے تھیاگو اویلا کو 29 اپریل کو اسرائیلی حکام نے اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لیے قائم کیے گئے گلوبل صمود فلوٹیلا کا حصہ تھے۔ یہ قافلہ 12 اپریل کو اسپین سے روانہ ہوا تھا۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ابو کشک پر دہشت گرد تنظیم سے روابط جبکہ اویلا پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہے، تاہم دونوں افراد نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ اسرائیلی حکام نے ان پر دشمن کی مدد اور دہشت گرد گروپ سے رابطے جیسے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔
اسپین اور برازیل کی حکومتوں نے ان گرفتاریوں کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ ایشکلون مجسٹریٹ کورٹ نے انہیں 10 مئی تک تحویل میں رکھنے کا حکم دیا تھا۔
انسانی حقوق کی تنظیم عدالہ، جو ان کے قانونی دفاع میں مدد کر رہی ہے، کا کہنا ہے کہ دونوں کارکنوں کو ہفتے کے روز سکیورٹی حراست سے رہا کر دیا گیا ہے اور انہیں امیگریشن حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے جہاں وہ اپنی ملک بدری تک زیر حراست رہیں گے۔
تنظیم نے مزید کہا ہے کہ وہ اس عمل کی نگرانی کر رہی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ رہائی کے بعد جلد از جلد ان کی ملک بدری کا عمل مکمل ہو۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
چیف آف آرمی اسٹاف اینڈ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف…
گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ کیمپس میں ہراسانی…
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا ہے کہ یورپ نیٹو اتحاد کو فعال رکھنے کے…
چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اتوار کی صبح…
برطانیہ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے اپنے جنگی…
پنجاب بھر کے سرکاری اسکولوں میں موسم گرما کی تعطیلات کا آغاز پچیس مئی سے…