-Advertisement-

ہینٹا وائرس سے متاثرہ کروز شپ ٹینریف پہنچ گیا، مسافروں کے طبی معائنے کا فیصلہ

تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف کا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے ٹیلیفونک رابطہ، بنوں حملے کی شدید مذمت

وزیراعظم شہباز شریف نے بنوں میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی...
-Advertisement-

ہینٹا وائرس کے مہلک پھیلاؤ کے شکار کروز شپ ایم وی ہونڈیئس نے اتوار کی صبح ٹینریف کے قریب گریناڈیلا بندرگاہ پر لنگر انداز کر دیا ہے۔ ہسپانوی حکام کے مطابق جہاز سے مسافروں اور عملے کے ارکان کو نکالنے کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔

یورپی پبلک ہیلتھ ایجنسی نے احتیاطی تدابیر کے تحت جہاز پر موجود تمام مسافروں کو ہائی رسک قرار دیا ہے۔ اگرچہ فی الحال کسی بھی مسافر میں انفیکشن کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں تاہم ہسپانوی طبی حکام تمام افراد کے ٹیسٹ کریں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ وائرس سے محفوظ ہیں۔

منصوبے کے تحت مسافروں کو چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ساحل تک پہنچایا جائے گا، جہاں سے انہیں خصوصی سیل بند بسوں کے ذریعے دس منٹ کی مسافت پر واقع مرکزی ہوائی اڈے منتقل کر دیا جائے گا۔ وہاں سے مسافر اپنے اپنے ممالک کے لیے روانہ ہوں گے۔ انخلا کا عمل صبح ساڑھے سات سے ساڑھے آٹھ بجے کے درمیان شروع کیا گیا۔

سرکاری حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں ہسپانوی شہریوں کو اتارا جائے گا، جس کے بعد دیگر ممالک کے مسافروں کو گروپس کی شکل میں منتقل کیا جائے گا۔ جہاز کا عملہ، جس کے تیس ارکان جہاز پر ہی موجود رہیں گے، بعد ازاں نیدرلینڈز روانہ ہو جائے گا جہاں جہاز کی مکمل جراثیم کشی کی جائے گی۔

عالمی ادارہ صحت اور یورپی یونین کی درخواست پر یہ جہاز بدھ کے روز کیپ ورڈی کے ساحل سے اسپین کے لیے روانہ ہوا تھا۔ عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادہانوم گیبریسس، اسپین کے وزرائے داخلہ و صحت اور وزیر برائے علاقائی پالیسی صورتحال کی نگرانی کے لیے ٹینریف میں موجود ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اب تک اس وائرس سے آٹھ افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں سے تین افراد کی موت واقع ہو چکی ہے، جن میں ایک ڈچ جوڑا اور ایک جرمن شہری شامل ہے۔ ان میں سے چھ کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ دو مشتبہ کیسز ہیں۔

ہینٹا وائرس عام طور پر چوہوں سے پھیلتا ہے تاہم شاذ و نادر صورتوں میں یہ انسان سے انسان میں بھی منتقل ہو سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے واضح کیا ہے کہ عالمی سطح پر عوام کے لیے خطرہ کم ہے، البتہ جہاز پر موجود افراد کے لیے یہ خطرہ درمیانے درجے کا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -