متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کے روز فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے بھیجے گئے دو ڈرونز کو ناکام بنا دیا ہے۔ یہ واقعہ خلیجی ملک پر حالیہ دنوں میں ہونے والے حملوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔ وزارت کے مطابق حالیہ گھنٹوں کے دوران پیش آنے والے ان واقعات میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ چار ہفتوں کے نسبتاً پرسکون وقفے کے بعد خلیجی ملک پر دوبارہ حملے شروع ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے ان حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے تاہم تہران نے یہ تنبیہ بھی کی ہے کہ اگر متحدہ عرب امارات کی سرزمین سے ان کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو اس کا بھرپور اور تباہ کن جواب دیا جائے گا۔
خطے میں کشیدگی اس وقت بڑھی جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کیے گئے جس کے جواب میں تہران نے اسرائیل اور خلیج میں امریکی اتحادیوں کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا۔
پاکستان کی ثالثی میں آٹھ اپریل کو جنگ بندی کا معاہدہ عمل میں آیا تھا تاہم اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی دیرپا حل تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا جس کا کوئی حتمی وقت مقرر نہیں کیا گیا تاکہ سفارتی ذرائع سے جنگ کے مستقل حل کی کوششیں جاری رکھی جا سکیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…