سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ رواں برس موسمیاتی تبدیلیوں اور بحر الکاہل میں ایل نینو کے شدید اثرات کے باعث دنیا بھر میں ریکارڈ توڑ درجہ حرارت اور خوفناک آگ لگنے کے واقعات کا خدشہ ہے۔ ورلڈ ویدر ایٹری بیوشن نامی تحقیقی ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے اپریل کے دوران دنیا بھر میں 15 کروڑ ہیکٹر سے زائد اراضی جل کر راکھ ہو چکی ہے جو کہ گزشتہ تمام ریکارڈز کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہے۔
امپیریل کالج لندن کے وائلڈ فائر ماہر تھیوڈور کیپنگ کا کہنا ہے کہ افریقہ میں اب تک 8 کروڑ 50 لاکھ ہیکٹر رقبہ جل چکا ہے جو گزشتہ ریکارڈ سے 23 فیصد زیادہ ہے۔ افریقہ میں اس تباہی کی بنیادی وجہ موسمیاتی تغیرات کے باعث انتہائی نمی اور پھر اچانک شدید خشک سالی کا پیدا ہونا ہے جس سے گھاس پھوس خشک ہو کر آگ کے لیے ایندھن کا کام کر رہی ہے۔
ایشیا میں صورتحال مزید تشویشناک ہے جہاں اب تک 4 کروڑ 40 لاکھ ہیکٹر رقبہ آگ کی نذر ہو چکا ہے جو 2014 کے ریکارڈ سے 40 فیصد زیادہ ہے۔ متاثرہ ممالک میں بھارت، میانمار، تھائی لینڈ، لاؤس اور چین شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایل نینو کے باعث آسٹریلیا، کینیڈا، امریکا اور ایمیزون کے جنگلات میں بھی آگ لگنے کے خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
عالمی ادارہ موسمیات کے مطابق بحر الکاہل کی سطح کے درجہ حرارت میں اضافے سے پیدا ہونے والے ایل نینو کے اثرات مئی سے شروع متوقع ہیں۔ ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ایل نینو کی شدت برقرار رہی تو رواں برس انسانی تاریخ کے بدترین موسمیاتی حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امپیریل کالج لندن کی ماہر فریڈرک اوٹو کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور ایل نینو کا امتزاج غیر معمولی موسمی شدت کا باعث بنے گا جس سے خشک سالی اور آگ لگنے کے واقعات میں مزید تیزی آئے گی۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ اور جوائنٹ چیفس کے چیئرمین جنرل ڈین کین منگل کے…
فیفا نے سن دو ہزار چھبیس کے فٹ بال ورلڈ کپ کے لیے ایک اور…
کیف اور واشنگٹن کے درمیان دفاعی تعاون کے ایک نئے معاہدے کی راہ ہموار ہو…
ایران نے آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اور عسکری تعریف کو تبدیل کرتے ہوئے اسے ایک…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین سے قبل بیجنگ نے تائیوان کو امریکی اسلحے…
نائجیریا کی ریاست زمفارہ کے ضلع زرمی میں واقع تمفا مارکیٹ پر ہونے والے فضائی…