ایران نے آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اور عسکری تعریف کو تبدیل کرتے ہوئے اسے ایک وسیع آپریشنل علاقے کے طور پر متعین کر دیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کی بحری فوج کے ڈپٹی پولیٹیکل ڈائریکٹر محمد اکبرزادہ کے مطابق اب یہ آبنائے چند جزیروں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کا دائرہ کار وسیع تر ہو چکا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے فارس کی رپورٹ کے مطابق محمد اکبرزادہ کا کہنا ہے کہ ماضی میں آبنائے ہرمز کو ہرمز اور ہنگام جیسے جزیروں کے گرد ایک محدود علاقے تک سمجھا جاتا تھا تاہم اب یہ تصور بدل چکا ہے۔ نئی تعریف کے مطابق یہ تزویراتی زون مشرق میں شہرِ جاسک سے لے کر مغرب میں سیری جزیرے تک پھیلا ہوا ہے۔
عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی کل ترسیل کا پانچواں حصہ اسی آبنائے سے گزرتا ہے جو خلیج کا داخلی راستہ ہے اور سعودی عرب، عراق اور قطر سمیت کئی ممالک کے لیے برآمدات کا اہم ترین ذریعہ ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس آبنائے کی چوڑائی، جو پہلے 20 سے 30 میل تک سمجھی جاتی تھی، اب بڑھ کر 200 سے 300 میل کے درمیان ہو گئی ہے۔ تسنیم نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ نیا توسیعی زون ایک مکمل ہلال کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران دوسری بار اپنے کنٹرول کے علاقے میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل چار مئی کو پاسدارانِ انقلاب نے ایک نقشہ جاری کیا تھا جس میں متحدہ عرب امارات کے ساحلی علاقوں تک اپنی حدود کے پھیلاؤ کو ظاہر کیا گیا تھا۔
اس حوالے سے روئٹرز کی جانب سے رابطہ کرنے پر ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…