-Advertisement-

مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کے باعث 40 سے زائد توانائی تنصیبات کو شدید نقصان

تازہ ترین

چین کا مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ، ‘خطرناک چکر’ شروع ہونے کا انتباہ

امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کو آبنائے ہرمز کو تمام جہاز رانی کے لیے...
-Advertisement-

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث نو ممالک میں توانائی کے چالیس سے زائد اثاثے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ایجنسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے کہا ہے کہ ان تنصیبات کو پہنچنے والا نقصان تنازع کے خاتمے کے بعد بھی عالمی سپلائی چین کی بحالی میں بڑی رکاوٹ ثابت ہوگا۔

فاتح بیرول کے مطابق تیل کے کنوؤں، ریفائنریز اور پائپ لائنز کو دوبارہ فعال کرنے میں طویل وقت درکار ہوگا۔ تین ہفتوں سے جاری لڑائی نے توانائی کی پوری سپلائی چین کو درہم برہم کر دیا ہے اور آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کا عمل تقریباً معطل ہو کر رہ گیا ہے۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران کے اثرات 1970 کی دہائی کے دو بڑے تیل کے بحرانوں اور 2022 کے قدرتی گیس کے بحران کے مجموعی اثرات کے برابر ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف تیل اور گیس بلکہ عالمی معیشت کی اہم ترین شریانوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

ایشیا کو اس بحران سے سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے کیونکہ یہ خطہ اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے مشرق وسطیٰ پر انحصار کرتا ہے۔ فاتح بیرول نے خبردار کیا کہ بلاجواز برآمدی پابندیاں عالمی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گی۔ سپلائی میں خلل کو کم کرنے کے لیے انٹرنیشنل انرجی ایجنسی اپنے ہنگامی ذخائر سے چالیس کروڑ بیرل تیل جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید ذخائر بھی جاری کیے جا سکتے ہیں۔

عالمی توانائی کی ترسیل کی بحالی کے لیے آبنائے ہرمز کا کھلنا ناگزیر ہے۔ مارچ کے اوائل سے بند اس اہم آبی گزرگاہ سے روزانہ دو کروڑ بیرل تیل گزرتا تھا، جس کی بندش سے شپنگ کے اخراجات اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو ایران پر شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں تیرہ سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل تھے۔ ایران نے جوابی کارروائی میں اسرائیل، اردن، عراق اور ان خلیجی ممالک کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے جہاں امریکی فوجی تنصیبات موجود ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -