-Advertisement-

شمالی کوریا کا امریکی سرزمین تک مار کرنے والے میزائل کا کامیاب تجربہ

تازہ ترین

جنگ شروع کرنے والے حکمرانوں کی دعائیں خدا قبول نہیں کرتا، پوپ فرانسس

پوپ لیو نے اتوار کے روز سینٹ پیٹرز اسکوائر میں ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خدا...
-Advertisement-

شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن نے امریکہ تک مار کرنے کی صلاحیت رکھنے والے میزائلوں کے لیے جدید ٹھوس ایندھن والے انجن کے کامیاب تجربے کا مشاہدہ کیا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق یہ پیش رفت ملک کے اسٹریٹجک عسکری اثاثوں کو مضبوط بنانے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کی رپورٹ کے مطابق تجربے میں استعمال ہونے والے انجن کی زیادہ سے زیادہ طاقت پچیس سو کلو نیوٹن ریکارڈ کی گئی ہے جو ستمبر میں کیے گئے تجربے کے انیس سو ستر کلو نیوٹن کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ یہ ٹیسٹ کاربن فائبر کے مرکب سے تیار کردہ انجن پر کیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹھوس ایندھن کے حامل میزائل مائع ایندھن والے میزائلوں کی نسبت زیادہ چست ہوتے ہیں اور انہیں لانچ سے قبل ایندھن بھرنے کی ضرورت نہیں ہوتی جس کی وجہ سے انہیں دشمن کی نظروں سے چھپانا اور نقل و حمل کرنا انتہائی آسان ہے۔

جنوبی کوریا کے انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی کے اعزازی ریسرچ فیلو لی چون گون نے اس دعوے پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی کوریا نے انجن کے دہن کے دورانیے جیسی اہم معلومات فراہم نہیں کیں جس سے یہ گمان ہوتا ہے کہ یہ محض ایک دعویٰ بھی ہو سکتا ہے۔

شمالی کوریا اپنے پانچ سالہ فوجی توسیع کے منصوبے کے تحت جوہری صلاحیت کے حامل بیلسٹک میزائلوں کو جدید بنانے پر کام کر رہا ہے۔ کم جونگ اُن کے مطابق اس نئے انجن کا تجربہ ملک کی عسکری طاقت کو بلند ترین سطح پر لے جانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شمالی کوریا کا میزائل پروگرام ممکنہ طور پر روسی تعاون سے مزید بہتر ہو رہا ہے کیونکہ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات میں گہرا اضافہ ہوا ہے۔

اگرچہ شمالی کوریا نے ماضی میں ملٹی وار ہیڈ میزائل کے تجربے کا بھی دعویٰ کیا تھا جسے جنوبی کوریا نے ناکام تجربے پر پردہ ڈالنے کی کوشش قرار دیا تھا، تاہم اکتوبر دو ہزار پچیس میں ہونے والی فوجی پریڈ میں ہواسونگ بیس نامی میزائلوں کی نمائش کی گئی تھی جنہیں ملک کا طاقتور ترین جوہری ہتھیار قرار دیا گیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ سن دو ہزار انیس میں سفارتی مذاکرات کی ناکامی کے بعد سے کم جونگ اُن نے اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کو وسیع کرنے پر پوری توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ شمالی کوریا کا موقف ہے کہ واشنگٹن کو مذاکرات کے لیے جوہری تخفیف اسلحہ کی شرط ختم کرنی ہوگی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -