-Advertisement-

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

تازہ ترین

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین الزامات کی زد میں...
-Advertisement-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ کے صف اول کے ارب پتی کاروباری افراد کا ایک وفد بھی موجود ہے۔ اس دورے کو عالمی تجارت، مصنوعی ذہانت اور ایران کی صورتحال پر واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان جاری مذاکرات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

وفد میں شامل ایگزیکٹوز کی مجموعی دولت کا تخمینہ ایک ٹریلین ڈالر کے قریب ہے، جن کی کمپنیاں چین میں وسیع تر کاروباری مفادات رکھتی ہیں۔ بلومبرگ بلین ایئرز انڈیکس کے مطابق دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک، جن کی دولت 688 ارب ڈالر ہے، اور اینویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ، جن کی دولت 183 ارب ڈالر ہے، اس وفد کا حصہ ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ فہرست کے مطابق یہ دونوں شخصیات صدر ٹرمپ کے ساتھ ایئر فورس ون میں بیجنگ پہنچی ہیں۔

وفد میں شامل دیگر اہم کاروباری شخصیات میں بلیک اسٹون کے سی ای او اسٹیفن شوارزمین، جن کی دولت 47.5 ارب ڈالر ہے، اور ایپل کے سی ای او ٹم کک شامل ہیں جن کی دولت 2.9 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بوئنگ کے سی ای او کیلی اورٹبرگ، بلیک راک کے سربراہ لیری فنک اور میٹا کی صدر دینا پاول میک کارمک بھی اس وفد کا حصہ ہیں۔ فلم ساز بریٹ ریٹنر بھی صدر ٹرمپ کے طیارے میں سوار تھے۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں ان کاروباری رہنماؤں کے چین جانے کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ سے درخواست کریں گے کہ وہ چین کے دروازے کھولیں تاکہ یہ باصلاحیت افراد اپنی مہارتوں کو بروئے کار لا کر عوامی جمہوریہ چین کو مزید ترقی کی منازل تک پہنچانے میں مدد کر سکیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اینویڈیا جیسی کمپنیاں جو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں چپس فراہم کرتی ہیں، اس دورے کو چینی مارکیٹ میں اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے کے ایک اہم موقع کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان برسوں سے تجارتی تنازعات جاری ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -