یورپی یونین نے یوکرین کے لیے نوے ارب یورو کے امدادی پیکیج کی فراہمی پر عائد تعطل ختم کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ہنگری اور یوکرین کے درمیان ڈروزبھا پائپ لائن کی بندش پر جاری طویل تنازع کے حل کے بعد سامنے آیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق فنڈز کی حتمی منظوری جمعرات تک متوقع ہے کیونکہ ہنگری کو روسی تیل کی سپلائی دوبارہ بحال کر دی گئی ہے۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر تصدیق کی کہ یورپی یونین کے ساتھ دو سالہ نوے ارب یورو کے امدادی پیکیج پر عمل درآمد کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو موجودہ حالات میں درست سمت میں اٹھایا گیا قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس کو اپنی جنگ کا خاتمہ کرنا ہوگا۔
اس سے قبل ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے مطالبہ کیا تھا کہ جب تک روسی حملے سے تباہ ہونے والی پائپ لائن کی مرمت نہیں ہوتی، وہ اس فنڈنگ کی مخالفت جاری رکھیں گے۔ یوکرین کی جانب سے مرمت مکمل ہونے کے اعلان کے بعد تیل کی ترسیل دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔ ہنگری کی توانائی کمپنی ایم او ایل اور سلوواکیہ کی وزیر اقتصادیات ڈینیسا ساکووا نے تصدیق کی ہے کہ تیل کی پہلی کھیپ جمعرات کی صبح تک پہنچنے کی توقع ہے۔
یہ تنازع ایک ایسے وقت میں حل ہوا ہے جب یوکرین کو اپنے بجٹ کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے ہنگری کی حمایت درکار تھی۔ وکٹر اوربان کو حالیہ انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اب یورپی یونین کی جانب سے روس پر پابندیوں کے بیسویں پیکیج کی منظوری بھی متوقع ہے۔ نئی پابندیوں میں روس کے توانائی، بینکنگ اور تجارتی شعبوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔
یوکرینی صدر زیلنسکی نے یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ ماسکو کے خلاف دباؤ میں اضافہ کرے۔ واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ کی جانب سے یوکرین کے لیے امداد میں کمی اور روسی تیل پر پابندیوں میں نرمی کے خدشات پائے جاتے ہیں۔
