ایران نے پاکستان کے توسط سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایک نئی تجویز پیش کر دی ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران نے جمعرات کی شام یہ دستاویز پاکستان کے حوالے کی جو دونوں ممالک کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
تاحال اس نئی تجویز کے مندرجات کے بارے میں کوئی تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔ دونوں ممالک کے مابین 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد ایک عارضی جنگ بندی کے دوران مذاکرات کا صرف ایک دور منعقد ہو سکا تھا۔
اس کے بعد سے مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہے۔ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بڑی حد تک بند کر دیا ہے، جس کے باعث جنگ کے آغاز سے اب تک وہاں سے بہت محدود جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
دریں اثنا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب، قطر، ترکی، عراق اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق ان رابطوں کا مقصد جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی حالیہ سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔
