-Advertisement-

لاہور میں ناقص منصوبہ بندی: سگنل فری کوریڈورز شہریوں کے لیے وبالِ جان بن گئے

تازہ ترین

بھارتیہ جنتا پارٹی سے شکست کے باوجود بھارتی وزیر اعلیٰ کا استعفیٰ دینے سے انکار

بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں انتخابی شکست کے باوجود وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے...
-Advertisement-

لاہور میں ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے نام پر سگنل فری کوریڈورز کا منصوبہ شہریوں کے لیے درد سر بن گیا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران شہر بھر سے 130 سے زائد ٹریفک سگنلز ہٹا کر ان کی جگہ یو ٹرنز قائم کیے گئے ہیں، جس کا مقصد ٹریفک کا بہاؤ تیز کرنا اور شہر کی خوبصورتی میں اضافہ تھا۔ تاہم، گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور سڑکوں کی ناکافی چوڑائی کے باعث یہ منصوبہ ٹریفک جام، حادثات اور ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔

سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں شروع ہونے والے اس منصوبے کے تحت کینال روڈ، جیل روڈ، فیروزپور روڈ، جی ٹی روڈ، مال روڈ، قرطبہ چوک، آزادی چوک، والٹن روڈ، قینچی فلائی اوور، ڈیفنس تا گلبرگ بلیوارڈ، ایم ایم عالم روڈ، مولانا شوکت علی روڈ، بند روڈ، ڈیفنس روڈ، عبدالستار ایدھی روڈ، رائیونڈ روڈ، پائن ایونیو اور جوہر ٹاؤن بلیوارڈ سمیت اہم شاہراہوں پر سگنلز کو ختم کر کے یو ٹرنز بنائے گئے۔

مقامی رہائشی حسن خالد اور قاسم ناگی نے کینال روڈ پر پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یو ٹرنز کے باعث سفر طویل ہو گیا ہے، جبکہ ٹریفک پولیس کی جانب سے ون وے کی خلاف ورزی پر کی جانے والی ناکا بندیوں نے صورتحال مزید سنگین کر دی ہے۔ مغلپورہ کے رہائشی ظفر مشتاق کا کہنا ہے کہ لنک روڈ پر سگنلز ہٹانے سے ٹریفک تو چلی لیکن سڑک تنگ ہونے کی وجہ سے ایندھن کا ضیاع اور جام معمول بن گیا ہے۔ جوہر ٹاؤن کے نعمان شیخ کے مطابق مولانا شوکت علی روڈ پر یو ٹرنز انتہائی خطرناک ہیں جہاں محدود جگہ کے باعث روزانہ حادثات ہوتے ہیں۔

شہری منصوبہ ساز میاں سہیل حنیف بھنڈارا نے اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یو ٹرنز کی تعمیر میں سڑک کی گنجائش کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سنگل لین کٹس کی وجہ سے ٹریفک کی رفتار سست پڑ جاتی ہے اور سگنل کے مقابلے میں اب سفر میں تین گنا زیادہ وقت لگ رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حادثات روکنے کے لیے یو ٹرنز کو کشادہ کیا جائے۔

ایل ڈی اے کے ڈائریکٹر اقرار حسین نے تسلیم کیا کہ کچھ مقامات پر یو ٹرنز کا ریڈیس کم ہونے سے ٹریفک جام کا مسئلہ درپیش ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ٹریفک پولیس کی غیر ضروری ناکا بندیاں اور پیدل چلنے والوں کی جانب سے پلوں کا استعمال نہ کرنا بھی حادثات کی بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکام صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں اور جہاں سڑک تنگ ہے وہاں اسے مزید چوڑا کیا جا رہا ہے تاکہ ٹریفک کی محفوظ اور ہموار نقل و حمل کو یقینی بنایا جا سکے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -