-Advertisement-

تھائی لینڈ کے سابق وزیراعظم تھاکسن شیناواترا جیل سے رہا

تازہ ترین

ایران: جنگ کے خدشات کے پیشِ نظر تاریخی مقامات کی حفاظت کے لیے ہنگامی اقدامات

تہران کے تاریخی ورثے پر جنگ کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں، جس کے باعث عالمی ثقافتی ورثہ قرار...
-Advertisement-

تھائی لینڈ کے سابق وزیراعظم اور ارب پتی کاروباری شخصیت ٹھاکسن شیناواترا کو پیر کے روز پیرول پر جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ چھہتر سالہ ٹھاکسن شیناواترا کو عدالتی احکامات کے بعد آٹھ ماہ قید کاٹنے کے بعد رہائی ملی ہے، جنہیں طویل عرصے تک ہسپتال میں قیام کے ذریعے جیل کی سزا سے بچنے کی کوشش پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بینکاک کی کلونگ پریم جیل سے باہر نکلتے وقت ٹھاکسن شیناواترا نے سفید لباس زیب تن کر رکھا تھا اور ان کے بال چھوٹے کٹے ہوئے تھے۔ جیل کے باہر موجود ان کے سینکڑوں حامیوں نے، جن میں سے بیشتر نے پارٹی کے روایتی سرخ رنگ کے ملبوسات پہن رکھے تھے، ان کا پرجوش استقبال کیا اور ان کی حمایت میں نعرے بازی کی۔

رہائی کے موقع پر اپنی بیٹی اور سیاسی جانشین پیٹونگ ٹرن شیناواترا سے ملاقات کے دوران ٹھاکسن نے مسکراتے ہوئے اپنے اہل خانہ کو گلے لگایا۔ صحافیوں کے سوال پر انہوں نے اپنے ہاتھوں کو سر کے اوپر اٹھاتے ہوئے سکون کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ طویل عرصے تک گوشہ نشین رہے ہیں اور اب انہیں کچھ یاد نہیں ہے۔

ٹھاکسن شیناواترا نے پندرہ سال خود ساختہ جلاوطنی کے بعد 2023 میں وطن واپسی کی تھی تاکہ وہ 2001 سے 2006 کے دوران اقتدار میں رہتے ہوئے اختیارات کے ناجائز استعمال اور مفادات کے تصادم کے مقدمات میں آٹھ سال قید کی سزا کاٹ سکیں۔ تاہم، جیل میں ایک رات گزارے بغیر ہی انہیں دل کی تکلیف کے باعث ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔

بعد ازاں بادشاہ نے ان کی سزا کم کر کے ایک سال کر دی تھی، تاہم سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ٹھاکسن اور ان کے ڈاکٹروں نے غیر ضروری سرجریوں کے ذریعے ہسپتال میں قیام کو طول دیا، جس پر انہیں دوبارہ جیل بھیجا گیا تھا۔ اب انہیں ستمبر تک اپنی سزا مکمل ہونے تک الیکٹرانک اینکل مانیٹر پہننا ہوگا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹھاکسن کی رہائی سے ان کی جماعت فیو تھائی پارٹی کو دوبارہ منظم ہونے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم انہیں انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹھاکسن کی شخصیت کو دیکھتے ہوئے یہ دیکھنا باقی ہے کہ وہ کب تک پس پردہ رہ کر سیاست کر سکتے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -