News

پارلیمنٹ نے کمپنیز ترمیمی بل سمیت کاروباری آسانیوں سے متعلق قوانین منظور کرلئے

پارلیمنٹ نے سکیورٹیز ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے تین قوانین کی منظوری دی ہے ، جن میں کمپنیز (ترمیمی) بل 2021 بھی شامل ہے، جس کے ذریعے حکومت ملک میں انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے اور کاروباری سہولیات اور اّسانیوں کے لئے اہم اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

مزید یہ کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس جن دو قوانین کی منظوری دی گئی ہے ان میں نے سکیورٹیز ٹرانزیکشن ایکٹ (ترمیمی) بل اور کارپوریٹ ری سٹرکچرنگ کمپنیز (ترمیمی) بل شامل ہیں۔

کمپنیز ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے خصوصی طور پر انٹر پینیور شپ کمپنیوں کو خصوصی مراعات فراہم کی جا رہی ہیں جیسا کہ قانون میں پہلی بار اسٹارٹ اپ کی تعریف شامل کی گئ ہے ۔ اسی طرح پرائیویٹ کمپنیوں کو نقد کے علاوہ اضافی حصص کے اجراء اور ملازمین کے اسٹاک آپشن سکیم کے ذریعے حصص جاری کرنے اور حصص واپس خریدنے کی اجازت بی دی جا رہی ہے ۔

اس سے پہلے یہ سہولت صرف پبلک اور پبلک لسٹڈ کمپنیوں کو حاصل تھی ۔ اس کے علاوہ 10 لاکھ روپے تک ادا شدہ سرمایہ رکھنے والی نجی کمپنیوں کوغیر آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے جمع کرانے سے است فراہم کیا جا رہا ہے ۔

دیگر اہم ترامیم میں سرکولیشن (تشہیر)کے ذریعے بورڈ کی قرارداد منظور کرنے کی سہولت شامل ہے ، تاہم ایسے نوٹس پر بھی تمام ڈائریکٹرز کے دستخط ضروری ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ خواتین کو سہولت اور آسانی فراہم کرنتے کے لئے کمپنی کی رجسٹریشن کے لیے شادی شدہ عورت یا بیوہ کی جانب سے شوہر کا نام بتانے کی شرائط کو ختم کیا گیا ہے۔

دوسرا اہم قانون کارپوریٹ ری سٹرکچرنگ کمپنیز کا ہے ۔ یہ قانون ان خصوصی کمپنیوں کے متعلق ہے جو کہ بیمار صنعتوں کی بحال اور ان کو مستحکم کرنے کے لئے تشکیل دی جائیں گی ۔

اس قانون کے ذریعے کارپوریٹ ری سٹرکچرنگ کمپنیوں کو تشکیل دینے اور ان کے آپریشنز کو مؤثر انداز سے چلانے اور مالیاتی اداروں سے آسانی سے غیر فعال اثاثوں (نان پرفارمنگ ایسٹ)کو حاصل کرنے اور غیر فعال اثاثوں کے حصول کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

اسی طرح، پارلیمنٹ نے فنانشل انسٹی ٹیوشن (محفوظ لین دین) (ترمیمی) بل 2021 کی بھی منظور ی دی ہے۔ فنانشل انسٹی ٹیوشن (محفوظ لین دین) ایکٹ میں ترامیم سےسکیور ٹرانزیکشن رجسٹری کے دائرہ کار کو فیوچر اثاثہ جات ، پراڈکٹس اور اصل اثاثوں کی تبدیلی اور قرضوں کی اقسام تک وسیع کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں کمپنیاں اپنے اثاثوں پر بنائے گئے چارجز کو کمپنی قانون کے تحت ایس ای سی پی کے رجسٹر میں درج کر سکتی ہیں۔ تاہم، ایسی کوئی رجسٹری موجود نہیں تھی جہاں غیر منقولہ اداروں کے منقولہ اثاثوں پر عائد چارجز مثلاً افراد، واحد ملکیت، شراکت داری وغیرہ کو رجسٹر کیا جا سکتا ہو، جو کہ سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کا اہم حصہ ہے۔ اس کے علاوہ، محفوظ لین دین کے لیے قانونی فریم ورک کا بھی فقدان تھا۔

مذکورہ قانونی فریم ورک بعد اب ایسے چھوٹے کاروباری ادارے جن کے پاس رئیل اسٹیٹ نہیں ہے، بھی سستے قرض حاصل کر سکیں گے۔

زبیر یعقوب

چیف کنٹینٹ ایڈیٹر ھیڈ لائن۔ جرنلزم کے 32 سالہ کیریئر میں زبیر یعقوب جنگ گروپ آف کمپنیز، نوائے وقت گروپ، بزنس پلس، ڈیلی ٹائمز اور پاکستان آبزرور سے وابستہ رہے ہیں۔ سینیئر صحافی زبیر یعقوب انگریزی اور اردو جرنلزم پر ملکہ رکھتے ہیں۔ حالات حاضرہ کے پروگرامز کے علاوہ ان کی ڈاکیومنٹری "تھر ایکسپریس" کو مقبولیت حاصل ہوئی۔ بتیس سالہ کیریئر کے دوران زبیر یعقوب نے بحیثیت فارن کارسپانڈنٹ بیرون ممالک میں مجموعی طور پر 700 بین القوامی نمائشوں کی رپورٹنگ کی۔ ان کے پورٹفولیو پر کئی اہم شخصیات کے انٹرویوز شامل ہیں

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

4 ہفتے ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

4 ہفتے ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

4 ہفتے ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

4 ہفتے ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

4 ہفتے ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

4 ہفتے ago