پاکستان

حکومت کا آلو کی پیداوار بڑھانے، درآمدی اخراجات میں کمی کیلئے خلیاتی ٹیکنالوجی کلچر کو فروغ دینے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے آلو کی پیداوار میں مزید اضافے کے لئے اس کے خلیاتی کلچر کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد کسانوں کو آلو کا صحت مند بیج فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ وفاقی وزارت برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیقات کے ترجمان کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آلو عالمی سطح پر کاشت کی جانے والی سب سے نقدآور فصل ہے جو پاکستان میں اس وقت کم وبیش 188 اعشاریہ 6 ہزار ہیکٹر رقبے پر کاشت کی جاتی ہے۔وزارت کی طرف سے جاری اعدادوشمار کے مطابق سال 2019ءمیں آلو کی اوسط پیداوار 23.6 ٹن فی ہیکٹر رہی جو سالانہ پیداوار 4.61 ملین ٹن بنتی ہے۔

آلو کی فصل کا بیماری سے پاک بیج کی فراہمی پاکستان میں آلو کی پیداوار کو محدود کرنے میں بڑی حد تک رکاوٹ بن رہا ہے۔ پاکستان میں معیاری آلو کی پیداواری صلاحیت موجود ہے ، اس وقت آلو کی کاشت کے لئے 4 لاکھ 15 ہزار میگاٹن بیج کی ضرورت ہے جبکہ اس کے مقابلے میں صرف ایک فیصد صحت مند بیج دستیاب ہے۔ مقامی طورپر صحت مند بیج کی عدم دستیابی کے باعث آلو کی پیداوار کے لئے سالانہ 5 ہزار 211 ملین ٹن بیج ہالینڈ اور دیگر ممالک سے درآمد کرنا پڑتا ہے اور اس مد میں سالانہ 400 ملین ڈالر ادائیگی کی جاتی ہے۔

وزارت برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیقات کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آلو کے صحت مند بیج کی مقامی سطح پر دستیابی کے لئے خلیاتی ٹیکنالوجی کلچر متعارف کروا کر جراثیم سے پاک ”منی ٹیوبر“ تیار کئے جا سکتے ہیں۔ خلیاتی ٹیکنالوجی کلچر کے ذریعے ہی صحت افزاءآلو کے بیج کی قلت پر قابو پایا جا سکتا ہے، کاشتکاروں کو صحت مند بیج کی فراہمی کے لئے سرکاری اور نجی شراکت داری کے ذریعے حوصلہ افزاءنتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خلیاتی ٹیکنالوجی کلچر کے فروغ کے لئے حکومت نے ابتدائی طورپر پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کو اس منصوبے کے لئے 158.83 ملین روپے جاری کر دیئے ہیں۔ مذکورہ منصوبے کے تحت آلو کے ڈیڑھ لاکھ نیوکلس تیار کئے گئے ہیں کو 50 ہزار تصدیق شدہ بیج تیار کرنے کے معاون ثابت ہوں گے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ آلو کے درآمد شدہ بیج کے متبادل کے طورپر بین الاقوامی ادارہ برائے آلو (سی آئی پی) اور گینسو زرعی یونیورسٹی چین سے بھی آلو کے بیج کے جرثومے حاصل کئے گئے ہیں جن کا پیداواری نوعیت کے لحاظ سے تفصیلی جائزہ کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت سرکاری سطح پر تکنیکی تربیت کے ساتھ نجی شعبے کی جانب سے تیار کئے گئے نیوکلس بیج اور آلو کے جراثیم سے پاک بیج کی فراہمی کے معیار کو یقینی بنایا جائے گا۔ خلیاتی ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کیا گیا آلو کا جراثیم سے پاک صحت مند بیج نجی شعبے اور کسانوں کو فراہم کیا جائے گا۔ بعد ازاں کسان اور نجی شعبے اپنے طریقے سے اس کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کریں گے۔

زبیر یعقوب

چیف کنٹینٹ ایڈیٹر ھیڈ لائن۔ جرنلزم کے 32 سالہ کیریئر میں زبیر یعقوب جنگ گروپ آف کمپنیز، نوائے وقت گروپ، بزنس پلس، ڈیلی ٹائمز اور پاکستان آبزرور سے وابستہ رہے ہیں۔ سینیئر صحافی زبیر یعقوب انگریزی اور اردو جرنلزم پر ملکہ رکھتے ہیں۔ حالات حاضرہ کے پروگرامز کے علاوہ ان کی ڈاکیومنٹری "تھر ایکسپریس" کو مقبولیت حاصل ہوئی۔ بتیس سالہ کیریئر کے دوران زبیر یعقوب نے بحیثیت فارن کارسپانڈنٹ بیرون ممالک میں مجموعی طور پر 700 بین القوامی نمائشوں کی رپورٹنگ کی۔ ان کے پورٹفولیو پر کئی اہم شخصیات کے انٹرویوز شامل ہیں

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

4 ہفتے ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

4 ہفتے ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

4 ہفتے ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

4 ہفتے ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

4 ہفتے ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

4 ہفتے ago