اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 9 کمرشل بینکوں پر مبینہ سائبر حملے اور کھاتیداروں کی 2.6 ملین ڈالر رقوم پر نقب لگنے کی اطلاع کی غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سائبر حملہ صرف نیشنل بینک کے سسٹم پر ہوا جبکہ اس واقعے میں تمام ریکارڈ اور کھاتے محفوظ رہے۔
[wpdiscuz-feedback id=”oc486e53t2″ question=”کیا جعلی خبروں کے خلاف کوئی کارروائی ہونی چاہیے؟” opened=”0″]اسٹیٹ بینک کے ترجمان اعلی عابد قمر نے "ہیڈ لائن” کو بتایا کہ ان کے کیا جعلی خبروں کے خلاف کوئی کارروائی ہونی چاہیے نام سے منسوب غلط خبریں چلائی جارہی ہیں جن کی وہ سختی سے تردید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر مصدقہ اطلاعات کے سہارے خبروں کی اشاعت معاشی مسائل کو گھمبیر کرتی ہیں۔[/wpdiscuz-feedback]
واضع رہے کہ ایک نجی ٹی وی نے خبیر ایئر کی تھی کہ پاکستان میں بینکوں پر سائبر حملے میں مبینہ ہیکرز نے 2 اعشاریہ 6 ملین ڈالر کا نقب لگایا۔
خبر میں انکشاف کیا گیا تھا کہ دو روز قبل نیشنل بینک کے علاوہ 9 کمرشل بینکوں کے سسٹم پر بیرونی ہیکرز نے وائرس کے ذریعے نقب لگایا جس کے نتیجے میں حبیب بینک لمیٹڈ، بینک اسلامی، بینک الفلاح، جے ایس بینک، فیصل بینک، سونیری بینک، سامبا بینک، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک اور بینک آف پنجاب کے کھاتیداروں کے مجموعی طور پر 2.6 ملین ڈالر پر نقب لگایا گیا۔ تاہم تفتیشی ادارے مبینہ بیرونی ہیکرز لا کھوج لگارہے ہیں۔
واضع رہے کہ پیر کے روز ایف آئی اے سائبر کرائم یونٹ کے اعلی افسر نے نیشنل بینک آمد پر بتایا کہ این بی پی کا سسٹم محفوظ ہے تاہم تحقیقات کی جارہی ہیں کہ ہیکرز نے کہاں سے یہ حملہ کیا ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کے فیصلے پر…
پوپ لیو چہار دہم نے کیمرون کے دورے کے دوران مصنوعی ذہانت کے تیزی سے…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹیلی فونک انٹرویو کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ…
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے لیے تعریفی…
خلیجی ممالک اور اردن نے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (آئی…
پاکستان نے آئی ٹی ایف ایشیا انڈر 12 ٹیم چیمپئن شپ کے فائنل کے لیے…