اسلام آباد میں وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی جانب سے آپریشن غضب الحق کے دوران جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ حکومتی ترجمان نے ان دعووں کو مضحکہ خیز اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے کسی بھی مرحلے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں کی۔
وزارت اطلاعات کے مطابق طالبان کی جانب سے پھیلایا جانے والا یہ پروپیگنڈا سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ ایسے بے بنیاد الزامات کا مقصد درحقیقت دہشت گردانہ کارروائیوں کو جواز فراہم کرنا ہے اور ممکن ہے کہ یہ بیانات طالبان کی اپنی صفوں میں موجود مخالف عناصر کی جانب سے دیے جا رہے ہوں۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے عید الفطر کے احترام اور برادر اسلامی ممالک کی درخواست پر آپریشن غضب الحق کو عارضی طور پر معطل کیا تھا۔ سعودی عرب، ترکی اور قطر کی استدعا پر کیے گئے اس فیصلے کے تحت آپریشن کی معطلی 24 مارچ کی نصف شب تک برقرار رہے گی۔
پاکستان نے دو ٹوک الفاظ میں باور کرایا ہے کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہوتے ہی کسی بھی قسم کے دہشت گردانہ حملوں یا سرحد پار سے مداخلت کا بھرپور قوت کے ساتھ جواب دیا جائے گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…