متحدہ عرب امارات کی حکام نے جمعہ کے روز ایک ایسے دہشت گرد نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے جسے لبنان کی تنظیم حزب اللہ اور ایران کی جانب سے فنڈنگ اور معاونت فراہم کی جا رہی تھی۔ اماراتی حکام نے اس نیٹ ورک کے متعدد ارکان کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق یہ نیٹ ورک منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے جیسے سنگین جرائم میں ملوث پایا گیا ہے۔ اس پیش رفت پر تاحال ایران یا حزب اللہ کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ گروہ ملک کے اندر ایک فرضی تجارتی نیٹ ورک کی آڑ میں کام کر رہا تھا۔ اس نیٹ ورک کا مقصد ملکی معیشت میں دراندازی کرنا اور ایسے بیرونی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا تھا جو متحدہ عرب امارات کے مالی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔
فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کے مابین کشیدگی کے بعد سے تہران کی جانب سے خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملوں میں تیزی آئی ہے، جن میں متحدہ عرب امارات کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ اماراتی حکام کے مطابق اب تک سینکڑوں حملے کیے جا چکے ہیں جن میں تیل تنصیبات، بندرگاہیں اور گنجان آباد شہری علاقے متاثر ہوئے ہیں۔
لبنان میں موجود حزب اللہ نے دو مارچ کو اسرائیل پر حملے شروع کیے تھے جس کے بعد اسرائیل کی جانب سے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر شدید فضائی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ متحدہ عرب امارات طویل عرصے سے سیاسی اسلام پسند گروہوں کی مخالفت کرتا رہا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…